پانی ہماری ریڈ لائن، بھارت راہِ راست پر نہ آیا تو منہ توڑ جواب دیں گے: وزیراعظم
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے، تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ریڈ لائن ہے اور اگر بھارت راہِ راست پر نہ آیا تو پاکستان منہ توڑ جواب دے گا۔
وزیراعظم نے یہ بات اسلام آباد میں یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا اور اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت بھی موجود تھی۔ تقریب میں مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز اور مختلف صوبوں سمیت آزاد کشمیر و گلگت بلتستان پولیس کے دستوں نے بھی شرکت کی۔
شہباز شریف نے قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آزاد وطن بزرگوں کی بے مثال قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے یادگارِ فتح کو قومی عزم، ہمت اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کی علامت قرار دیا اور حالیہ معرکے میں کامیابی پر قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کی۔
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں پاکستانی افواج نے دشمن کا مقابلہ کیا اور قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ ان کے مطابق صرف آٹھ ماہ کے مختصر عرصے میں یادگارِ فتح کی تعمیر فیلڈ مارشل کی ذاتی دلچسپی کا نتیجہ ہے اور یہ یادگار قومی اتحاد کی علامت بن چکی ہے۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے اور دنیا کو مزید تنازعات سے محفوظ دیکھنا چاہتا ہے، تاہم قومی سلامتی اور آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ پانی ملکی سلامتی اور بقا کا بنیادی مسئلہ ہے، جبکہ حکومتی حکام نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے آبی حقوق پر زور دیا ہے۔
وزیراعظم نے افغانستان کی قیادت کو بھی مشورہ دیا کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کا بھی ذکر کیا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تاریخی کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا جبکہ فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے بھی اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔
وزیراعظم نے پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی بھی ہر مشکل وقت میں مضبوط رہی ہے۔ انہوں نے قوم پر زور دیا کہ اختلافات ختم کرکے قومی اتحاد، بھائی چارے اور یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔








