ٹیکسلا میں ٹک ٹاکر خاتون کے قتل کا مقدمہ درج، والد کی مدعیت میں ایف آئی آر
راولپنڈی: ٹیکسلا کے علاقے میں فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والی ٹک ٹاکر خاتون شمسو عرف عائشہ کے قتل کا مقدمہ تھانہ ٹیکسلا میں درج کرلیا گیا۔ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں قتل کے واقعے سے متعلق اہم تفصیلات اور مختلف افراد پر شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی شمسو عرف عائشہ کو کاشف کاشی نے ٹیلی فون کرکے بلایا تھا، جس کے بعد وہ اپنی بہن اور بھائی کے ہمراہ گاڑی میں گھر سے روانہ ہوئی۔ مقتولہ کے والد کے مطابق راستے میں نجی پیٹرول پمپ کے قریب موٹرسائیکل سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے نتیجے میں شمسو عرف عائشہ کو گردن میں گولی لگی اور وہ شدید زخمی ہوگئیں۔ حملے کے بعد گاڑی بے قابو ہوکر ایک ڈمپر سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں مقتولہ کی دوسری بہن بھی زخمی ہوگئی۔ شمسو عرف عائشہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئیں۔
پولیس کے مطابق مقتولہ معروف ٹک ٹاکر تھیں اور ان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر تقریباً 13 لاکھ فالوورز موجود تھے۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس قتل کے حوالے سے مختلف ردعمل سامنے آئے، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
مقتولہ کے والد نے ایف آئی آر میں مزید مؤقف اختیار کیا کہ ان کی بیٹی گزشتہ چار سال سے ٹک ٹاکر کے طور پر سرگرم تھیں اور ان کا کوثر اور جاوید عرف شاہین کے ساتھ مبینہ طور پر لین دین کا تنازع چل رہا تھا۔
درخواست کے مطابق مقتولہ نے متعدد مرتبہ اہلخانہ کو بتایا تھا کہ انہیں بعض افراد کی جانب سے دھمکیاں موصول ہورہی ہیں۔ والد نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کی بیٹی کو رقم ہڑپ کرنے کی غرض سے مبینہ طور پر خود یا اپنے نامعلوم ساتھیوں کے ذریعے قتل کروایا گیا۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کردی ہے۔ حکام کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ واقعے میں ملوث دیگر ممکنہ ملزمان اور حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے لیے بھی تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کی جانب سے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور واقعے کے محرکات جاننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قتل کے اصل محرکات اور واقعے میں ملوث افراد کے بارے میں مزید حقائق سامنے آسکیں گے۔





