مون سون بارشوں کے چھٹے اسپیل کا الرٹ جاری، 21 اگست تک بیشتر اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی
لاہور: پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے میں مون سون بارشوں کے چھٹے اسپیل کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق آج رات سے 21 اگست تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کا امکان ہے، جبکہ بعض علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث شہریوں کو ممکنہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے جاری کردہ الرٹ کے مطابق لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، چکوال، تلہ گنگ، اٹک، سیالکوٹ، نارووال اور منڈی بہاؤالدین میں بارشیں متوقع ہیں۔ اس کے علاوہ گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد اور وزیرآباد میں بھی مختلف مقامات پر بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور نورپور تھل میں بھی مون سون سسٹم کے اثرات کے باعث بارش ہوسکتی ہے۔ جنوبی اور وسطی پنجاب کے متعدد اضلاع میں بھی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، لیہ، بھکر، ساہیوال، پاکپتن، بہاولنگر، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں 20 اور 21 اگست کے دوران بارشوں کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں کی جانب سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب بارشوں کے باعث صوبے کے مختلف شہری اور پہاڑی علاقوں میں ممکنہ خطرات کے حوالے سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ موجود ہے۔ شدید بارش کی صورت میں سڑکوں، گلیوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں میں احتیاط برتنے اور بجلی کے کھمبوں، تاروں اور دیگر خطرناک مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ موسمی صورتحال سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔
حکام کے مطابق مون سون کے چھٹے اسپیل کے دوران بارشوں کی شدت اور دورانیے پر نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو بھی کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔





