اسلام آباد مارچ کے لیے 15 لاکھ افراد کا ہدف، سہیل آفریدی کا سٹریٹ موومنٹ کا اعلان
بنوں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بنوں سے سٹریٹ موومنٹ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک کا مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور صوبے میں عوامی اختیار کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق سٹریٹ موومنٹ کا سلسلہ 27 ستمبر تک جاری رہے گا اور اسی روز بڑی تعداد میں کارکن اسلام آباد پہنچیں گے۔
بنوں میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ جیل میں قید عمران خان ان کے لیے ہیرو کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی قیادت کے باعث خیبرپختونخوا میں موجودہ حکومت قائم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے معاملات میں عوامی مینڈیٹ اور منتخب حکومت کے اختیار کو نظر انداز کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ 27 ستمبر کو 15 لاکھ افراد کو اسلام آباد لے جایا جائے گا اور اس موقع پر عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ سٹریٹ موومنٹ میں بھرپور شرکت کریں اور تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا میں مختلف سڑکوں کی بندش پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بند کی جانے والی تمام سڑکیں عوام کی ملکیت ہیں اور شہریوں کو آمدورفت کی سہولت سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے سول انتظامیہ اور عسکری حکام کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے پشاور پہنچنے سے قبل تمام بند سڑکیں کھول دی جائیں۔ سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ اگر سڑکیں نہ کھولی گئیں تو وہ خود انہیں کھولنے کے لیے انتظام کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کسی قسم کی بدمعاشی یا عوامی راستوں کی بندش قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ تحریک کے دوران منظم انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔
سہیل آفریدی کے مطابق سٹریٹ موومنٹ کا آغاز بنوں سے کردیا گیا ہے اور اس کا اگلا مرحلہ مختلف علاقوں میں کارکنوں اور عوام سے رابطوں پر مشتمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کے ذریعے عوامی رائے کو اجاگر کیا جائے گا اور عمران خان کی رہائی کے مطالبے کو مزید مؤثر انداز میں سامنے لایا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد مارچ کے لیے پہلے 20 لاکھ افراد کا ہدف زیرِ بحث تھا، تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اب 27 ستمبر کے لیے 15 لاکھ افراد اسلام آباد لانے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے تحریک کی تیاریوں اور کارکنوں کی متحرک ہونے کی صورتحال آئندہ دنوں میں مزید واضح ہوگی۔







