فراری کی پہلی الیکٹرک کار ’لُوچے‘ 4 کروڑ ڈالر میں نیلام، نیا ریکارڈ قائم
فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی ’لُوچے‘ (Luce) نے اپنی قیمت اور ڈیزائن پر ہونے والی شدید تنقید کے باوجود نیلامی میں ایسا ریکارڈ قائم کر دیا جس نے پوری آٹو انڈسٹری کی توجہ حاصل کر لی۔
کیلیفورنیا میں RM Sotheby’s کی ایک فلاحی نیلامی میں فراری لُوچے 4 کروڑ ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 11 ارب روپے میں فروخت ہوئی۔ یہ کسی نئی گاڑی کی نیلامی میں حاصل ہونے والی اب تک کی بلند ترین قیمت ہے۔ گاڑی کے خریدار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، جبکہ نیلامی سے حاصل ہونے والی تمام رقم Ferrari Foundation کے تعلیمی پروگراموں کے لیے مختص کی گئی ہے۔
لُوچے کو برطانوی ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تصور کے تحت تیار کیا گیا اور اس میں منفرد فنش، خصوصی پہیے اور حسبِ ضرورت تیار کیے گئے پرزے شامل ہیں۔ یہ گاڑی فراری کے لیے کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ کمپنی کی پہلی مکمل الیکٹرک کار ہونے کے ساتھ ساتھ پہلی پانچ نشستوں والی گاڑی بھی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لُوچے کی رونمائی کے بعد اسے پذیرائی سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ گاڑی کا ڈیزائن فراری کی روایتی اسپورٹس کاروں سے بہت مختلف ہے اور الیکٹرک موٹرز کے باعث اس میں وہ مخصوص انجن آواز بھی نہیں جو طویل عرصے سے فراری کی شناخت سمجھی جاتی رہی ہے۔
گاڑی کی قیمت بھی غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ اس کی معمول کی قیمت تقریباً 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر بتائی گئی، لیکن فلاحی نیلامی میں یہی گاڑی 4 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئی، یعنی معمول کی قیمت سے 35 گنا سے بھی زیادہ۔
لُوچے کی کارکردگی البتہ کسی سپر کار سے کم نہیں۔ یہ تقریباً 2.5 سیکنڈ میں 0 سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 190 میل فی گھنٹہ سے زیادہ ہے۔ کمپنی کے مطابق گاڑی کے چاروں پہیوں میں فراری کی تیار کردہ الیکٹرک موٹرز نصب ہیں اور اس کے بیشتر اہم پرزے کمپنی نے خود تیار کیے ہیں۔
رونمائی کے بعد فراری کے حصص میں بھی تقریباً 8 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ سوشل میڈیا پر گاڑی کے ڈیزائن کو لے کر مختلف میمز اور تبصرے سامنے آئے۔ فراری کے سابق چیئرمین لوکا کورڈیرو ڈی مونتیزیمولو سمیت بعض معروف شخصیات نے بھی اس کے ڈیزائن پر تحفظات کا اظہار کیا۔
تاہم فراری کے موجودہ سربراہ بینیڈیٹو وگنا نے تنقید کو جدت کے عمل کا حصہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ’لُوچے‘ نام اطالوی زبان میں روشنی کے معنی رکھتا ہے اور اس گاڑی کو تیار کرنے میں تقریباً پانچ سال لگے۔
لُوچے کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کی بڑی آٹو کمپنیوں کو الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں سخت مقابلے کا سامنا ہے، خصوصاً چین میں جہاں کم قیمت، طویل بیٹری رینج اور جدید ٹیکنالوجی کی حامل الیکٹرک گاڑیاں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔
فراری اس نئی گاڑی کے ذریعے روایتی سپر کار خریداروں کے علاوہ ایک نئی نسل کو بھی اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگرچہ لُوچے نے فراری کے روایتی ڈیزائن سے ہٹ کر ایک نیا راستہ اختیار کیا ہے، لیکن 4 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ نیلامی نے کم از کم یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس گاڑی نے دنیا بھر میں غیر معمولی توجہ ضرور حاصل کر لی ہے۔





