عمران خان کی صحت سے متعلق پی ٹی آئی کے دعوے، اڈیالہ جیل رپورٹ میں اہم تفصیلات سامنے آگئیں

عمران خان کی صحت سے متعلق پی ٹی آئی کے دعوے، اڈیالہ جیل رپورٹ میں اہم تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والے خدشات اور دعووں کے برعکس اڈیالہ جیل حکام کی رپورٹ میں ان کے باقاعدہ طبی معائنے، علاج اور ملاقاتوں سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان کا دن میں تین مرتبہ طبی معائنہ کیا جاتا ہے، جبکہ متعدد سرکاری معالجین بھی باقاعدگی سے ان کی صحت کا جائزہ لیتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کی آنکھ کا بھی ماہر امراض چشم سے علاج کرایا جاتا رہا ہے۔ جیل حکام کے مطابق علاج کے بعد ان کی ایک آنکھ تقریباً نارمل ہوچکی ہے۔

کھانے اور صحت کی باقاعدہ نگرانی

جیل رپورٹ کے مطابق عمران خان کے کھانے پینے کی بھی دن میں تین مرتبہ جانچ کی جاتی ہے، جبکہ ان کی مجموعی صحت کی نگرانی بھی مسلسل جاری ہے۔

رپورٹ میں طبی سہولیات اور نگرانی کی یہ تفصیلات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے مختلف خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

ملاقاتوں کی بھی تفصیلات سامنے آگئیں

اڈیالہ جیل حکام نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ملاقاتوں سے متعلق بھی سپریم کورٹ کو آگاہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق دونوں کی ہر منگل کو جیل رولز کے تحت باقاعدگی سے ملاقات کرائی جاتی ہے اور اب تک ان کی 84 ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے بھی 10 فروری اور 4 اپریل 2026 کو ان سے ملاقات کی تھی۔

جیل حکام کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں عمران خان کی صحت کی مسلسل نگرانی اور علاج کا ذکر کیا گیا ہے، جس کے بعد صحت سے متعلق سیاسی دعووں اور جیل ریکارڈ کے درمیان فرق پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

اب سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کرے گا، جہاں جیل حکام کی رپورٹ بھی عدالت کے سامنے موجود ہوگی۔

More News