آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کی تبدیلی کا امکان، نئے آئی جی کے لیے تین نام وفاق کو ارسال
پشاور: خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید کی تبدیلی کا امکان ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے نئے آئی جی پولیس کی تعیناتی کے لیے تین سینئر پولیس افسران کے نام وفاقی حکومت کو ارسال کردیئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق نئے آئی جی خیبرپختونخوا کے لیے مجوزہ پینل میں سعید وزیر، عباس احسن اور محمد علی بابا خیل کے نام شامل ہیں۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی جانب سے بھیجے گئے پینل کا جائزہ لینے کے بعد نئے پولیس سربراہ کی تعیناتی سے متعلق حتمی فیصلہ کرے گی۔
ذوالفقار حمید اس وقت خیبرپختونخوا پولیس کے انسپکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ جنوری 2025 سے صوبے کے پولیس سربراہ کے عہدے پر فائز ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تجویز کردہ تینوں افسران کو اعلیٰ سطح پر زیرِ غور لایا جارہا ہے۔ نئے آئی جی کی تعیناتی کا فیصلہ وفاقی حکومت کی منظوری اور متعلقہ انتظامی مراحل مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا پولیس کو اس وقت امن و امان، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور عوامی تحفظ کے حوالے سے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث پولیس سربراہ کی تعیناتی صوبے کے لیے اہم انتظامی فیصلہ تصور کی جارہی ہے۔
نئے آئی جی کی تعیناتی کی صورت میں پولیس کی کمان میں تبدیلی کے ساتھ صوبے میں امن و امان، انسدادِ دہشت گردی، پولیسنگ اور اہلکاروں کی فلاح و بہبود سے متعلق ترجیحات بھی نئی قیادت کے تحت آگے بڑھنے کا امکان ہے۔
تاہم ذرائع کے مطابق ابھی نئے آئی جی کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور موجودہ مرحلے میں تین نام وفاقی حکومت کو بھیجے گئے ہیں۔ حتمی منظوری کے بعد ہی نئے پولیس سربراہ کے نام کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ نئے آئی جی کی تعیناتی سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد جاری ہوگا۔ تب تک ذوالفقار حمید خیبرپختونخوا پولیس کے آئی جی کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔





