جولائی میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر خسارے میں

جولائی میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر خسارے میں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی کرنٹ اکاؤنٹ کے تازہ اعداد و شمار جاری کردیئے ہیں، جن کے مطابق نئے مالی سال کا آغاز کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے ساتھ ہوا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی 2026 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا۔ جون کے مقابلے میں جولائی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 81 کروڑ ڈالر خسارے میں تھا، جو جولائی میں کم ہو کر 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہ گیا۔

اس طرح ماہانہ بنیاد پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تقریباً 48 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی۔ تاہم نئے مالی سال کے پہلے ماہ میں خسارہ برقرار رہنے سے بیرونی کھاتے کے حوالے سے معاشی دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

کرنٹ اکاؤنٹ کسی ملک کی بیرونی معیشت کی اہم صورتحال کو ظاہر کرتا ہے، جس میں اشیا اور خدمات کی تجارت، بیرون ملک سے آمدن، ترسیلات زر اور دیگر بیرونی مالی لین دین شامل ہوتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی عام طور پر بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے، تاہم مسلسل خسارہ زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

جولائی کے اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے، برآمدات بڑھانے اور درآمدی دباؤ کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حالیہ عرصے میں بیرونی کھاتے کو مستحکم رکھنے کے لیے ترسیلات زر، برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر کو اہم عوامل قرار دیا جاتا رہا ہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کا مقصد بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنا اور مالی استحکام برقرار رکھنا ہے۔

جولائی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں جون کے مقابلے میں ہونے والی نمایاں کمی کو اگرچہ مثبت پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم آنے والے مہینوں کے اعداد و شمار یہ واضح کریں گے کہ یہ بہتری مستقل رجحان اختیار کرتی ہے یا نہیں۔

More News