ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کا 16 سال بعد ٹاکرا، گرین شرٹس کے لیے جیت لازمی
ہاکی ورلڈ کپ 2026 میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت 16 سال بعد ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان پول ڈی کا یہ اہم مقابلہ نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹلوین میں واقع ویگنر ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلا جارہا ہے، جہاں پاکستان کے لیے صورتحال ’’کرو یا مرو‘‘ کی ہے۔
پاکستان کو اگلے مرحلے میں جگہ بنانے کے لیے بھارت کے خلاف لازمی طور پر کامیابی حاصل کرنا ہوگی، جبکہ بھارت کے لیے کم از کم ڈرا بھی اسے اگلے مرحلے کی دوڑ میں برقرار رکھنے کے لیے کافی ہے۔ یوں میچ کے نتیجے کا پول ڈی کی صورتحال پر براہ راست اثر پڑے گا۔
پول ڈی میں انگلینڈ پہلے ہی ٹاپ ٹو میں اپنی جگہ پکی کرچکا ہے۔ دوسری پوزیشن کے لیے بھارت، پاکستان اور ویلز کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ تازہ پوائنٹس ٹیبل کے مطابق انگلینڈ 9 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے، بھارت 3 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر جبکہ پاکستان اور ویلز ایک، ایک پوائنٹ کے ساتھ موجود ہیں۔
بھارت نے اپنے ابتدائی میچ میں ویلز کو 3-1 سے شکست دی تھی، تاہم اسے انگلینڈ کے ہاتھوں 2-4 کی شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ پاکستان نے ویلز کے خلاف مقابلہ ڈرا کیا جبکہ انگلینڈ کے خلاف گرین شرٹس کو 1-4 سے شکست ہوئی۔ اس طرح پاکستان کے دو میچوں میں صرف ایک پوائنٹ ہے اور اسے بھارت کے خلاف فتح کی صورت میں اپنی مہم کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔
پاکستان کے لیے یہ مقابلہ صرف روایتی حریف کے خلاف ایک میچ نہیں بلکہ ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے تک رسائی کی جنگ بھی ہے۔ قومی ٹیم کو دفاع میں مضبوطی، مڈفیلڈ میں بہتر کنٹرول اور فارورڈ لائن سے مؤثر فنشنگ کی ضرورت ہوگی۔
دوسری جانب بھارت بھی سیمی فائنل کی دوڑ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کرے گا۔ دونوں ٹیموں کی تاریخی رقابت کے باعث اس میچ کو عالمی ہاکی کے سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے مقابلوں میں شمار کیا جارہا ہے۔ ویگنر اسٹیڈیم میں ہونے والا یہ مقابلہ شائقین کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے، جبکہ میچ کے لیے اسٹیڈیم مکمل طور پر بھرنے کی توقع ہے۔
پاکستان کی ٹیم تقریباً آٹھ سال بعد ہاکی ورلڈ کپ میں واپس آئی ہے اور گرین شرٹس کے لیے بھارت کے خلاف یہ مقابلہ عالمی سطح پر اپنی واپسی کو یادگار بنانے کا بڑا موقع ہے۔
اب تمام نظریں پاکستان اور بھارت کے اس ہائی وولٹیج مقابلے پر مرکوز ہیں، جہاں گرین شرٹس کے لیے ایک ہی نتیجہ اگلے مرحلے کی امید زندہ رکھ سکتا ہے، اور وہ ہے فتح۔







