بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے فیصلے کی مخالفت نہیں کریں گے، عدالتی حکم کی نفی نہیں ہوگی، خواجہ آصف

بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے فیصلے کی مخالفت نہیں کریں گے، خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی سے متعلق عدالتی فیصلے کی مخالفت نہیں کرے گی اور ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جائے گا جس سے عدالتی حکم کی نفی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عدالت کے فیصلے کا احترام کرے گی اور قانونی راستے موجود ہونے کی صورت میں انہیں اختیار کیا جائے گا۔

ہم نیوز کے پروگرام ’’فیصلہ آپ کا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے حوالے سے حکومتی ردعمل پر وہ تفصیلی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے، تاہم حکومت کی جانب سے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا جو عدالت کے احترام کے منافی ہو۔

وزیر دفاع نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے معاملے کو ملک کی سیاسی تاریخ کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مختلف نوعیت کے معاملات پیش آتے رہے ہیں اور سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں کی مثالیں موجود ہیں۔

خواجہ آصف نے بانی پی ٹی آئی کے دور حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پانچ سے سات سال قبل ملک کی سیاسی صورتحال مختلف تھی اور اس وقت نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے افراد بھی قید میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تاریخ میں مخالفین کے ساتھ سخت رویے کی مثالیں ملتی رہی ہیں۔

حکومت کو کوئی خطرہ نہیں

حکومت کو درپیش ممکنہ خطرے سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ انہیں ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آرہی جس سے یہ تاثر ملے کہ حکومت خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کام کررہی ہے اور نہ نظام کے خاتمے کا کوئی خدشہ ہے اور نہ حکومت کہیں جارہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور وزیراعظم شہباز شریف بھی اپنی مدت مکمل کریں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش تمام مسائل مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، لیکن حالات میں بہتری کے امکانات ضرور پیدا ہوئے ہیں۔

پیپلز پارٹی حکومت کے لیے خطرہ نہیں

خواجہ آصف نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ ان کے مطابق اگر پیپلز پارٹی حکومت کی مخالفت بھی کرے تو حکومت کے پاس اپنی اکثریت موجود ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے تو پھر خطرہ کس بات کا ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر مؤقف

وزیر دفاع نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ تقریباً مکمل طور پر ٹھیک ہوچکی ہے اور ان کا علاج درست طریقے سے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 74 سالہ شخص کے حساب سے بانی پی ٹی آئی کی صحت قابلِ رشک ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو بلڈ پریشر کی شکایت ہے، تاہم جیل میں رہنے کی وجہ سے بھی صحت سے متعلق مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مزید کوئی طبی مسئلہ سامنے آتا ہے تو اس کی تشخیص کرکے علاج کیا جائے گا۔

بیرون ملک روانگی کا فیصلہ عدالتوں پر چھوڑ دیا

بانی پی ٹی آئی کے بیرون ملک جانے کے امکان پر خواجہ آصف نے کوئی پیشگوئی کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ آیا بانی پی ٹی آئی بیرون ملک جائیں گے یا دوبارہ جیل واپس جائیں گے، اس کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ عدالتیں فیصلے کرنے میں آزاد ہیں اور مستقبل کی صورتحال بھی عدالتی فیصلوں کی روشنی میں طے ہوگی۔

بیک ڈور رابطوں سے لاعلمی

مبینہ بیک ڈور رابطوں کے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ انہیں ایسے کسی رابطے کا علم نہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی بیک ڈور چینل استعمال کیا ہے۔ ان کے مطابق وہ سیاسی معاملات میں جو بھی بات کرتے ہیں، واضح الفاظ میں کرتے ہیں۔

انہوں نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی کو بھی سراہا اور کہا کہ پنجاب میں لوگ ان کی کارکردگی کی تعریف کررہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ شہباز شریف اور مریم نواز کی ٹیم مجموعی طور پر بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ حکومت عدالتی احکامات کا احترام کرے گی، اسے فی الحال کوئی فوری خطرہ درپیش نہیں اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔

More News