پنشنرز کے لیے پروف آف لائف کا جدید نظام متعارف، بائیومیٹرک اور فیس ویریفکیشن مفت
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پنشنرز کی سہولت کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے حصول کا جدید اور ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر نادرا کے نئے اقدام کے تحت پنشنرز کو بائیومیٹرک اور چہرے کی تصدیق کی سہولت مفت فراہم کی جائے گی۔
نادرا کے ترجمان کے مطابق پنشنرز اب پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کرسکیں گے۔ جو پنشنرز موبائل ایپ استعمال نہیں کرتے، ان کی سہولت کے لیے خاندان کا کوئی فرد بھی یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مدد کرسکے گا۔
پروف آف لائف کی مفت سہولت ملک بھر میں قائم 5 ہزار ای سہولت فرنچائزز پر بھی دستیاب ہوگی۔ اس کے علاوہ 988 نادرا مراکز اور 500 یونین کونسلز سے بھی پنشنرز مفت سرٹیفکیٹ حاصل کرسکیں گے۔ نادرا مراکز اور یونین کونسلز میں پنشنرز کو ترجیحی بنیادوں پر خدمات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نادرا کے مطابق سی جی اے اور ایم اے جی کے پنشنرز کے لیے نیشنل پنشنرز رجسٹر بھی قائم کردیا گیا ہے، جو پنشنرز کی شناخت اور پروف آف لائف اسٹیٹس کی ڈیجیٹل تصدیق کا مستند ذریعہ ہوگا۔
نئے نظام کے تحت پنشنر کی وفات کا اندراج ڈیتھ نوٹیفکیشن ٹول یا سی آر ایم ایس میں ہونے کی صورت میں متعلقہ پنشن کنٹرولر کو خودکار طور پر اطلاع مل سکے گی۔ اسی طرح ثانوی یا فیملی پنشنرز کی عمر اور ازدواجی حیثیت میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق معلومات بھی متعلقہ حکام تک پہنچائی جاسکیں گی۔
نادرا کے مطابق پنشن جاری رکھنے، تبدیل کرنے یا بند کرنے کا حتمی فیصلہ متعلقہ مجاز پنشن اتھارٹی کرے گی، جبکہ مجاز بینک نیشنل پنشنرز رجسٹر سے پنشنر کا پروف آف لائف اسٹیٹس براہ راست چیک کرسکیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل تصدیق کے اس نظام سے پنشنرز کو بار بار ذاتی طور پر دفاتر یا بینکوں میں حاضر ہونے اور کاغذی دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت کم ہوگی۔
نادرا نے بتایا کہ مستقبل میں دیگر سرکاری اور نجی اداروں کے پنشنرز کو بھی نیشنل پنشنرز رجسٹر میں شامل کیا جائے گا، جس سے ملک میں پنشن کے نظام کو مزید ڈیجیٹل، شفاف اور سہل بنانے میں مدد ملے گی۔





