خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، ثوبیہ شاہد 2 ہفتے کیلئے معطل
پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں شدید ہنگامہ آرائی اور مسلسل مداخلت کے بعد مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن اسمبلی ثوبیہ شاہد کو دو ہفتوں کے لیے اجلاس میں شرکت سے روک دیا گیا۔
اسمبلی اجلاس کے دوران رکن اسمبلی سجاد بارکوال بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔ اسی دوران ثوبیہ شاہد نے کورم کی نشاندہی کی، جس کے بعد ان کا حکومتی رکن فضل الہٰی سے تلخ جملوں کا تبادلہ شروع ہوگیا۔
صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب دونوں جانب سے بحث اور مداخلت کے باعث ایوان میں شدید شور شرابا اور بدنظمی پیدا ہوگئی۔ ارکان کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی اور احتجاج کے باعث اسمبلی کی کارروائی بھی متاثر ہوئی۔
ڈپٹی اسپیکر نے ثوبیہ شاہد کو ایوان کی کارروائی میں مسلسل مداخلت کرنے پر متعدد مرتبہ تنبیہ کی اور انہیں خاموش رہنے کی ہدایت کی۔ تاہم صورتحال قابو میں نہ آنے پر ڈپٹی اسپیکر نے انہیں ایوان سے باہر جانے کی رولنگ جاری کردی۔
ڈپٹی اسپیکر کے مطابق ثوبیہ شاہد رولنگ جاری ہونے کے باوجود ایوان سے باہر جانے کے لیے تیار نہیں تھیں، جس پر اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔
بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے اسمبلی رولز 227 اور 229 کا حوالہ دیتے ہوئے ثوبیہ شاہد کی دو ہفتوں کے لیے اسمبلی اجلاس میں شرکت پر پابندی عائد کردی۔
اس فیصلے کے بعد ثوبیہ شاہد مقررہ مدت کے دوران خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکیں گی۔ واقعے نے صوبائی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو بھی نمایاں کردیا ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاسوں میں حالیہ عرصے کے دوران سیاسی معاملات، بانی پی ٹی آئی کی صحت اور صوبائی حکومت سے متعلق مختلف امور پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید بحث دیکھنے میں آتی رہی ہے۔
ثوبیہ شاہد کی معطلی بھی اسی کشیدہ ماحول میں سامنے آئی ہے، جبکہ اسمبلی کی کارروائی کو قواعد کے مطابق چلانے اور ارکان کو نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایات بھی دی جاتی رہی ہیں۔





