وزیراعظم شہباز شریف کا کے پی اور بلوچستان میں دہشتگردی پر اہم بیان
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے پیچھے دشمن ممالک کا ہاتھ ہے، جبکہ فتنۃ الخوارج سے وابستہ دہشتگردوں کو بیرونی عناصر سے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے بلوچ اور پشتون عوام بہادری، مہمان نوازی اور رواداری کی روایات کے امین ہیں، جو پاکستان کی قومی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل ورکشاپ کا مقصد محض سرکاری بیانات دینا نہیں بلکہ عوام کی بات سننا اور ان کے مسائل کو سمجھنا ہے۔ وزیراعظم نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان کے قیام اور مسلمانوں کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا۔
شہباز شریف کے مطابق بلوچستان کی تاریخ، ثقافت اور روایات پاکستان کی قومی شناخت سے جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ اس یقین کے تحت کیا گیا کہ وہ ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم نے بلوچستان میں 1950، 1955 اور 1970 کے سیاسی و سیکیورٹی حالات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان معاملات پر آج بھی یہ بحث جاری ہے کہ انہیں کس طرح بہتر انداز میں حل کیا جاسکتا تھا اور کیا مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل ممکن تھا۔
انہوں نے کہا کہ 1970 تک بلوچستان کا پورا علاقہ پاکستان کا حصہ بن چکا تھا اور اسے ملک کے چوتھے صوبے کی حیثیت حاصل ہوئی۔
وزیراعظم کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ اور انسدادِ دہشتگردی کارروائیاں جاری ہیں۔
شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں امن و استحکام کے لیے دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔





