اپر کوہستان اسکینڈل میں گرفتار ملزم کی ضمانت درخواست خارج
پشاور: پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں گرفتار ملزم شفیق الرحمن قریشی کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔
کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج کلیم ارشد خان نے کی۔ دورانِ سماعت ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ نیب قوانین کے تحت کسی مقدمے کی تفتیش مقررہ مدت، یعنی چھ ماہ کے اندر مکمل کرنا ضروری ہے۔ وکیل کے مطابق نیب مقررہ مدت کے اندر تفتیش مکمل کرنے میں ناکام رہا، اس لیے ملزم ضمانت کا حقدار ہے۔
دوسری جانب نیب کے پراسیکیوٹر منظور عالم نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ آئین کے سیکشن 254 کے تحت صرف تفتیش میں تاخیر کی بنیاد پر کسی کارروائی کو غیر مؤثر یا کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
نیب پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں اس حوالے سے ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش مکمل ہونے میں تاخیر بذاتِ خود ملزم کو ضمانت کا حق فراہم نہیں کرتی۔
عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست پر فیصلہ سنایا اور شفیق الرحمن قریشی کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔
عدالت کے فیصلے کے بعد ملزم کو مقدمے میں بدستور عدالتی کارروائی کا سامنا رہے گا، جبکہ نیب کی جانب سے مالیاتی اسکینڈل سے متعلق تفتیش اور قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے دوران متعدد پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ کیس میں نیب کی کارروائی اور آئندہ پیش رفت پر مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔
عدالت کا یہ فیصلہ ملزم کی جانب سے دائر ضمانت کی موجودہ درخواست سے متعلق ہے، جبکہ مقدمے کے میرٹ پر حتمی فیصلہ آئندہ عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آئے گا۔





