وزیراعلیٰ کا بونیر دورہ مظاہرین پر ایف آئی آر کے لیے تھا؟ سردار حسین بابک

وزیراعلیٰ کا بونیر دورہ مظاہرین پر ایف آئی آر کے لیے تھا؟ سردار حسین بابک

بونیر: بونیر میں تمباکو کاشتکاروں کے حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج ہونے پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینئر رہنما سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

تھانہ سٹی سواڑی میں ٹوبیکو ایکشن کمیٹی کے صدر حسن سردار سمیت 16 پرامن مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مظاہرین تمباکو کاشتکاروں کے حقوق اور ان کے درپیش مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھا رہے تھے۔

مقدمے کے اندراج پر ردعمل دیتے ہوئے سردار حسین بابک نے پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائی کو ظالمانہ فعل قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے جائز مطالبات کے لیے احتجاج کرنے والے کسانوں کے خلاف مقدمات کا اندراج قابلِ افسوس ہے۔

سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت سے سوال کیا کہ کیا وزیراعلیٰ کا بونیر کا دورہ پرامن مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تھا؟ انہوں نے حکومت کی پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنا مسائل کا حل نہیں۔

اے این پی رہنما نے صوبائی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر فوری طور پر واپس لی جائے اور تمباکو کاشتکاروں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمباکو کاشتکاروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ سردار حسین بابک نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ اپنے اعلان کے مطابق تمباکو کاشتکاروں کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے فوری طور پر کمیٹی تشکیل دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ احتجاج اور اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے کاشتکاروں کے مسائل سن کر ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

More News