میر رضا قتل کیس: تحقیقاتی کمیٹی دوبارہ اچانک کرائم سین پہنچ گئی
کراچی: میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تحقیقاتی کمیٹی ایک مرتبہ پھر اچانک کرائم سین پہنچ گئی اور جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا۔
تحقیقاتی کمیٹی کے سیکریٹری ایس ایس پی علی رضا کی سربراہی میں افسران نے کرائم سین کے مختلف حصوں کا جائزہ لیا اور دستیاب شواہد کا معائنہ کیا۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی ارکان نے جائے وقوعہ کے اطراف اور مختلف مقامات کا بھی جائزہ لیا تاکہ واقعے سے متعلق مزید شواہد حاصل کیے جا سکیں۔
تحقیقاتی افسران نے نرسری کے رکھوالے سے دوبارہ بیان بھی لیا۔ کمیٹی نے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے میر رضا علی کی موت کی وجوہات اور ممکنہ محرکات سے متعلق تحقیقات کو آگے بڑھایا۔
میر رضا علی کی پراسرار موت کا معاملہ گزشتہ کئی ہفتوں سے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وہ 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے جبکہ 29 جولائی کو ان کی لاش کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔ ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی کے زاویے سے دیکھا گیا، تاہم مقتول کے اہلخانہ نے ابتدا ہی سے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قتل کا شبہ ظاہر کیا۔
اہلخانہ نے پولیس تحقیقات، سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد اور ڈیجیٹل مواد کی ہینڈلنگ پر متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔ خاندان کی جانب سے مختلف اداروں کے افسران پر مشتمل بااختیار جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سندھ حکومت نے معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، جس کی سربراہی سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کریں گے۔ کمیشن کو پولیس تفتیش، شواہد، میڈیکو لیگل کارروائی اور ممکنہ غفلت سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہوگا۔
میر رضا کے والدین نے تاہم جوڈیشل کمیشن کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ عدالت نے درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 31 اگست تک ملتوی کردی ہے۔
ادھر کراچی کی عدالت نے پولیس کو کیس کی تفتیشی رپورٹ جمع کرانے کے لیے 7 ستمبر تک مہلت دی ہے، جبکہ میر رضا کے کاروباری پارٹنر محمد احمد کی عبوری ضمانت میں بھی توسیع کردی گئی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے دوبارہ کرائم سین کا دورہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ میر رضا علی کی موت کے معاملے میں مختلف شواہد اور ممکنہ محرکات کا مزید باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اہلخانہ بدستور مطالبہ کر رہے ہیں کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی جامع، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔





