سانحہ پمز: پیپلز پارٹی کا وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی اموات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
پمز اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ حادثے کے وقت فائر ٹینکس میں پانی موجود نہیں تھا، ڈاکٹرز بھی موجود نہیں تھے جبکہ گیٹ بند ہونے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سانحے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی، تاہم اپوزیشن کی حیثیت سے واقعے پر سوال اٹھانا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نیئر بخاری نے کہا کہ صرف سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹانا کافی نہیں، وزارت صحت کو بھی اس واقعے پر جواب دینا ہوگا۔ ان کے مطابق اگر وفاقی وزارت صحت دو اسپتالوں کا انتظام مؤثر انداز میں نہیں چلا سکتی تو پورے ملک کے نظام صحت سے متعلق سوالات اٹھتے ہیں۔
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے بھی پمز سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے وفاقی نظام صحت کی سنگین ناکامی اور مبینہ غفلت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر صحت کو انتظامی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے۔
پیپلز پارٹی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سانحے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور غفلت کے ذمہ دار تمام افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔






