آئی سی سی بورڈ کا فرنچائز کرکٹ پر تشویش، خصوصی کمیٹی بنانے کا فیصلہ

آئی سی سی بورڈ کا فرنچائز کرکٹ پر تشویش کا اظہار، خصوصی کمیٹی بنانے کا فیصلہ

دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے بورڈ اجلاس میں دنیا بھر میں تیزی سے فروغ پاتی فرنچائز کرکٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مختلف ممالک میں منعقد ہونے والی ٹی ٹوئنٹی اور دیگر فرنچائز لیگز کی بڑھتی ہوئی تعداد بین الاقوامی کرکٹ کے شیڈول اور کھلاڑیوں کی دستیابی پر اثر انداز ہو رہی ہے، جس کے باعث اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

آئی سی سی بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ فرنچائز کرکٹ اور بین الاقوامی کرکٹ کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی دنیا بھر میں جاری مختلف فرنچائز لیگز کے شیڈول، بین الاقوامی کرکٹ کیلنڈر اور کھلاڑیوں کی مصروفیات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ کمیٹی اپنی سفارشات آئی سی سی بورڈ کے سامنے پیش کرے گی تاکہ مستقبل میں دونوں فارمیٹس کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکے اور بین الاقوامی کرکٹ کی اہمیت برقرار رکھی جا سکے۔

اجلاس کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بین الاقوامی کرکٹ کھیل کی بنیاد ہے اور اس کی مقبولیت اور مسابقتی معیار کو برقرار رکھنا آئی سی سی کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ بورڈ اراکین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو فرنچائز کرکٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت بین الاقوامی مقابلوں کے شیڈول اور معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔

دوسری جانب آئی سی سی بورڈ نے کرکٹ کینیڈا کی رکنیت معطل کرنے کا اہم فیصلہ بھی کیا۔ بورڈ کے مطابق یہ اقدام گورننس اور انتظامی معاملات سے متعلق خدشات کے باعث اٹھایا گیا ہے۔ تاہم آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ رکنیت کی معطلی کے باوجود کینیڈا کی قومی کرکٹ ٹیم عالمی کرکٹ کونسل کے زیر اہتمام مختلف بین الاقوامی ایونٹس اور کوالیفائنگ ٹورنامنٹس میں شرکت جاری رکھ سکے گی۔

اجلاس میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے معاملات بھی زیر غور آئے۔ اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ آئی سی سی کا دو رکنی وفد جلد بنگلا دیش کا دورہ کرے گا۔ وفد وہاں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے انتخابی عمل، انتظامی ڈھانچے اور گورننس کے معاملات کا جائزہ لے گا اور اپنی رپورٹ آئی سی سی بورڈ کو پیش کرے گا۔

آئی سی سی بورڈ کے حالیہ فیصلوں کو عالمی کرکٹ کے مستقبل، بین الاقوامی شیڈول کے تحفظ اور رکن ممالک میں بہتر گورننس کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

More News