پاک چین اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز، سرمایہ کاری اور تعاون میں وسعت کی توقع
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبوں کے درمیان کاروباری روابط میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے دور کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ صنعتی، زرعی اور سائنسی شعبوں میں بڑھتا ہوا تعاون پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ان کے حالیہ دورۂ چین کے دوران منعقد ہونے والی پاکستان۔چین کاروباری کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں اور طے پانے والے معاہدوں پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کانفرنس کے دوران طے پانے والی مفاہمتی دستاویزات کو جلد از جلد عملی معاہدوں اور مشترکہ کاروباری منصوبوں میں تبدیل کیا جائے تاکہ ان کے ثمرات جلد عوام اور معیشت تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ان منصوبوں پر عمل درآمد کی نگرانی خود کرے گی اور اس سلسلے میں ہر ماہ پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
وزیراعظم نے زرعی شعبے کو ملکی ترقی کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کے زرعی تحقیقی اداروں اور پاکستان کے تحقیقی مراکز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جدید زرعی تحقیق، نئی ٹیکنالوجی، بہتر بیجوں اور جدید آبپاشی نظام کے استعمال سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے، جس سے کسانوں کی آمدنی بڑھے گی اور غذائی تحفظ کو بھی فروغ ملے گا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ چین کے شہر ہانگژو میں چوبیس مئی کو منعقد ہونے والی کاروباری کانفرنس میں ایک سو تئیس پاکستانی اور چار سو چھتیس چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً سات ارب چون ارب ڈالر مالیت کی دو سو سات مفاہمتی دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔
شرکا کو بتایا گیا کہ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، مصنوعی ذہانت، موبائل آلات، کھاد سازی، بیجوں کی تیاری، ماہی پروری، خوراک کی تیاری، حیاتیاتی تحقیق اور ویکسین سازی جیسے اہم شعبوں میں تعاون کے معاہدے طے پائے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔








