اردو ادب کے درخشاں ستارے قدرت اللہ شہاب کو بچھڑے 40 برس بیت گئے
اسلام آباد: اردو ادب کے ممتاز ادیب، نامور بیوروکریٹ، دانشور اور شہرۂ آفاق خودنوشت “شہاب نامہ” کے مصنف قدرت اللہ شہاب کو دنیا سے رخصت ہوئے آج 40 برس مکمل ہو گئے۔ ان کی ادبی، فکری اور سرکاری خدمات آج بھی اردو ادب اور پاکستان کی انتظامی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کی شخصیت بیک وقت ایک اعلیٰ سرکاری افسر، حساس ادیب، صاحبِ فکر دانشور اور روحانی رجحان رکھنے والے انسان کی حیثیت سے یاد کی جاتی ہے۔
قدرت اللہ شہاب 26 فروری 1917ء کو متحدہ ہندوستان کے علاقے گلگت میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور اپنی غیر معمولی ذہانت اور قابلیت کے باعث 1941ء میں برصغیر کی باوقار انڈین سول سروس (ICS) میں شمولیت اختیار کی۔ اپنے کیریئر کے آغاز میں انہوں نے بہار اور اڑیسہ میں مختلف انتظامی ذمہ داریاں نبھائیں، جبکہ 1943ء میں انہیں بنگال میں تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے مشکل حالات میں بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد قدرت اللہ شہاب نے نئی مملکت کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں حکومتِ آزاد کشمیر کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا، جس کے بعد وہ گورنر جنرل غلام محمد، صدر سکندر مرزا اور بعد ازاں صدر ایوب خان کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ سرکاری امور میں ان کی دیانت داری، انتظامی مہارت اور اصول پسندی کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، جبکہ اہم قومی فیصلوں میں بھی ان کی رائے کو خاص اہمیت حاصل رہی۔
قدرت اللہ شہاب نے سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ادبی میدان میں بھی اپنی منفرد پہچان قائم کی۔ انہوں نے پاکستان رائٹرز گلڈ کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور اردو ادب کو ایسی تخلیقات دیں جو آج بھی قارئین میں بے حد مقبول ہیں۔ ان کی خودنوشت “شہاب نامہ” اردو ادب کی شاہکار کتابوں میں شمار ہوتی ہے، جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات، تحریکِ پاکستان، قیامِ پاکستان، ملکی سیاست، اعلیٰ سرکاری حلقوں کے مشاہدات اور مختلف تاریخی واقعات کو نہایت دلچسپ اور مؤثر انداز میں قلم بند کیا ہے۔ اس کتاب کو اردو ادب کی بہترین سوانحی تصانیف میں شمار کیا جاتا ہے اور آج بھی لاکھوں قارئین اس سے رہنمائی اور معلومات حاصل کرتے ہیں۔
قدرت اللہ شہاب کی تحریروں میں نہ صرف تاریخی حقائق بلکہ روحانیت، اخلاقیات اور انسانی اقدار کی جھلک بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا اسلوب تحریر عام قاری سے لے کر محققین تک سب کے لیے یکساں دلچسپی کا باعث ہے۔ ان کی دیگر تصانیف اور مضامین بھی اردو ادب کا قیمتی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔
24 جولائی 1986ء کو قدرت اللہ شہاب اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ انہیں اسلام آباد کے سیکٹر H-8 قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اگرچہ انہیں اس دنیا سے رخصت ہوئے چار دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن ان کی ادبی خدمات، انتظامی کردار اور فکری ورثہ آج بھی زندہ ہے۔ ہر سال ان کی برسی کے موقع پر ادبی حلقے، دانشور، محققین اور ان کے مداح انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ قدرت اللہ شہاب اردو ادب کے ان درخشاں ستاروں میں شامل ہیں جن کی روشنی آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔







