اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ میں ججز کے تبادلے اور نئی تعیناتیاں، نوٹیفکیشن جاری
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی ضلعی عدلیہ میں انتظامی امور کو مزید مؤثر اور عدالتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ججز کے تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کے حوالے سے الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر اسلام آباد جوڈیشل سروس کے متعدد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سینئر سول ججز اور سول جج کم مجسٹریٹس کے تقرر و تبادلے کیے گئے ہیں۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد جوڈیشل سروس کے چار ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے تبادلے عمل میں لائے گئے ہیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ویسٹ محمد افضل مجوکہ کو ان کی موجودہ ذمہ داریوں کے ساتھ جنڈر بیسڈ وائلنس کورٹ کا اضافی چارج بھی سونپ دیا گیا ہے، تاکہ خواتین اور کمزور طبقات سے متعلق مقدمات کی سماعت مزید مؤثر انداز میں کی جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد سہیل کا تبادلہ سیشن ڈویژن ویسٹ سے سیشن ڈویژن ایسٹ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جاوید اقبال سپرا کو بھی ویسٹ سے ایسٹ تعینات کیا گیا ہے۔ دوسری جانب راجہ آصف محمود کو سیشن ڈویژن ایسٹ سے ویسٹ جبکہ قدرت اللہ کو بھی ایسٹ سے ویسٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری دوسرے نوٹیفکیشن کے مطابق دو سینئر سول ججز کے تبادلے بھی کیے گئے ہیں۔ محمد عباس شاہ کو سول ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ڈویژن ویسٹ سے ایسٹ جبکہ ملک امان کو ایسٹ سے ویسٹ منتقل کیا گیا ہے۔ عدالتی حکام کے مطابق ان تبادلوں کا مقصد عدالتوں میں مقدمات کی مؤثر تقسیم اور عدالتی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد جوڈیشل سروس کے 14 سول جج کم مجسٹریٹس کے بھی مختلف عدالتوں میں تبادلے اور نئی تعیناتیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ اگرچہ نوٹیفکیشن میں تمام ججز کے نام اور نئی تعیناتیوں کی تفصیلات الگ سے جاری کی گئی ہیں، تاہم مجموعی طور پر ان اقدامات کا مقصد عدالتی امور میں توازن، شفافیت اور بہتر انتظامی صلاحیت کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ضلعی عدلیہ میں وقتاً فوقتاً ہونے والے تبادلے اور تعیناتیاں عدالتی نظام کا معمول کا حصہ ہیں، جن کے ذریعے مختلف عدالتوں میں تجربہ کار ججز کی خدمات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف مقدمات کی بروقت سماعت میں مدد ملتی ہے بلکہ مختلف شعبوں میں عدالتی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان حالیہ فیصلوں کے بعد متعلقہ ججز اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جبکہ عدالتی نظام میں انتظامی تسلسل اور انصاف کی بروقت فراہمی کو مزید مضبوط بنانے کی توقع کی جا رہی ہے۔








