اسلام آباد کے نئے مجوزہ انتظامی ڈھانچے کیلئے جامع روڈ میپ تیار

اسلام آباد کے نئے مجوزہ انتظامی ڈھانچے کیلئے جامع روڈ میپ تیار

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو نئے انتظامی ماڈل میں ڈھالنے کیلئے جامع روڈ میپ تیار کرلیا گیا ہے، جس میں قانون سازی، مالیاتی نظام، اداروں کی تنظیم نو اور عبوری انتظامات سے متعلق اہم تجاویز شامل ہیں۔

مجوزہ روڈ میپ وزیراعظم کو پیش کردیا گیا ہے، جس میں نئے انتظامی ڈھانچے کے قیام اور موجودہ نظام سے نئے ماڈل کی جانب منتقلی کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ ڈرافٹ میں قانون سازی اور مالیاتی معاملات کیلئے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

مجوزہ پلان کے مطابق قانون سازی کیلئے وزیر قانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کی ذمہ داری نئے انتظامی ڈھانچے کیلئے ضروری قانونی اقدامات اور قانون سازی سے متعلق امور کو حتمی شکل دینا ہوگی۔

قانون سازی مکمل ہونے کے بعد عبوری انتظامات کیلئے خصوصی ٹرانزیشن کمیٹی بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ مجوزہ کمیٹی میں وزیر پارلیمانی امور کو شامل کرنے کی تجویز ہے، جبکہ نئے نظام میں منتقلی کا تمام عمل اسی کمیٹی کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔

روڈ میپ میں مالیاتی معاملات کو منظم کرنے کیلئے الگ فنانس کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ کمیٹی وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی سربراہی میں قائم کرنے کی تجویز ہے، جس کا مقصد نئے انتظامی نظام کیلئے مالی وسائل، بجٹ اور وسائل کی تقسیم سے متعلق امور کو حتمی شکل دینا ہوگا۔

مجوزہ ڈرافٹ کے مطابق تینوں کمیٹیوں میں مقامی ارکان قومی اسمبلی اور متعلقہ وفاقی سیکرٹریز کو شامل کیا جائے گا تاکہ انتظامی، قانونی اور مالیاتی معاملات میں متعلقہ نمائندگی یقینی بنائی جاسکے۔

نئے انتظامی ڈھانچے کے قیام کے دوران موجودہ اداروں کی تنظیم نو کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ منتقلی کے عرصے میں انتظامی امور میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اس مقصد کیلئے موجودہ اداروں اور محکموں کے کردار کو نئے نظام کے مطابق ترتیب دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

روڈ میپ میں وفاق سے نئے انتظامی نظام کیلئے مناسب مالی اور انتظامی وسائل کی فراہمی کیلئے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی ٹیکسز کے استعمال اور مختلف وسائل کی تقسیم کیلئے بھی نئے نظام کی تشکیل کو منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

حکام کے مطابق مجوزہ انتظامی ماڈل کا مقصد قانون سازی، مالیاتی امور اور انتظامی منتقلی کو مربوط انداز میں مکمل کرنا ہے۔ تاہم نئے ڈھانچے کے حتمی قیام کیلئے قانونی اور انتظامی مراحل مکمل ہونا ضروری ہوں گے۔

More News