افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے اور دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشت گردی میں ملوث عناصر کو مسنگ پرسنز کے بیانیے کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو مسنگ پرسنز کے بیانیے کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں۔

سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی کے حوالے سے بالکل واضح مؤقف رکھتی ہے اور حالیہ کارروائیوں میں اضافہ بدلتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بعض بااثر عناصر اور سردار اپنے ذاتی مفادات کے لیے ریاستی نظام کو چیلنج کرتے ہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض عناصر اسمگلنگ، منشیات اور ڈیزل کے غیر قانونی کاروبار سے وابستہ ہیں اور کارروائی ہونے پر ریاستی اداروں کو دھمکیاں دیتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ بعض حلقے لیویز فورس کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، جبکہ قانون کے نفاذ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ریاستی معاملات قانون کے مطابق چلائے جائیں گے۔ ان کے مطابق تمام شہریوں کی اولین شناخت پاکستانی ہونے کی ہے اور ملک کی سلامتی اور استحکام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے اور دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے مقاصد ایک جیسے ہیں اور دونوں پاکستان میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان اور لاپتہ افراد کے معاملات کو حقائق کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ زمینی حقائق کے مطابق درست تصویر سامنے آ سکے۔

More News