امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ آخری مراحل میں داخل، منجمد فنڈز کا معاملہ تاحال زیرِ غور
عرب میڈیا کی تازہ رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدہ اب اپنے آخری مراحل میں پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر اہم نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم ایران کے منجمد فنڈز کی بحالی اور ان کی منتقلی کا طریقہ کار اب بھی زیرِ بحث ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے بیرونِ ملک موجود اربوں ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔ دونوں فریق اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ان فنڈز کو کس طریقے سے جاری کیا جائے تاکہ معاہدے کی شرائط بھی برقرار رہیں اور متعلقہ فریقین کے تحفظات بھی دور ہو سکیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ معاملہ ہی اس وقت معاہدے کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے پر حتمی دستخط سے قبل ایران کو کسی بھی قسم کے فنڈز جاری کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے مذاکرات میں شامل ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک اور نمائندوں کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے۔ امریکی مؤقف یہ ہے کہ مالی وسائل کی فراہمی معاہدے کی مکمل تکمیل اور ایران کی جانب سے تمام شرائط پر عملدرآمد کے بعد ہی ممکن ہونی چاہیے۔
دوسری جانب ایران اپنے منجمد اثاثوں تک رسائی کو معاہدے کا بنیادی حصہ قرار دے رہا ہے اور اس سلسلے میں مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک خصوصی مالیاتی فنڈ قائم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے جس کے ذریعے ایران کے منجمد اثاثوں کو مرحلہ وار اور نگرانی کے نظام کے تحت جاری کیا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں امریکا براہِ راست ایران کو مالی امداد یا فنڈز فراہم کرنے کا پابند ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں مالی معاملات سب سے زیادہ حساس موضوع بنے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر منجمد فنڈز کے معاملے پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔








