نیشنل ٹیرف کمیشن کی فعالیت صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے ناگزیر قرار
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے نیشنل ٹیرف کمیشن کا مؤثر اور فعال کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کمیشن کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت پانچ سالہ نیشنل ٹیرف پالیسی کے نفاذ اور اس کی پیش رفت کے جائزے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور مختلف شعبوں میں ٹیرف اصلاحات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کا دارومدار برآمدات میں اضافے، صنعتی پیداوار کے فروغ اور سرمایہ کاری کے بہتر مواقع پیدا کرنے پر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن ملکی صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، اس لیے اس کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کمیشن میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی بھی ہدایت کی تاکہ فیصلوں اور پالیسی سازی کے عمل کو مزید شفاف، تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی معیشت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق اداروں میں جدت لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ نئی ٹیرف پالیسی کے تحت مختلف صنعتی اور تجارتی شعبوں کے لیے کسٹم ڈیوٹی اور ٹیرف میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد پیداواری لاگت میں کمی، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کو یقینی بنانا ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ کینسر سمیت مختلف بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کے خام مال کی درآمد پر عائد کسٹم ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے تاکہ ادویات کی تیاری کی لاگت کم ہو اور عوام کو بہتر سہولتیں میسر آ سکیں۔ اسی طرح لاجسٹکس کے شعبے کی ترقی کے لیے ریفرز کنٹینرز اور سیمی ٹریلرز پر ڈیوٹیز ختم کرنے کی تجویز بھی زیر عمل ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لیے خصوصی مشینری اور مخصوص گاڑیوں پر عائد کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی جا رہی ہے، جبکہ دواسازی کے شعبے کو مزید سہولتیں فراہم کرنے کے لیے خام مال کی درآمد پر محصولات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں صنعتی پیداوار میں اضافہ، سرمایہ کاری میں بہتری اور ملکی برآمدات کو فروغ ملے گا، جس سے قومی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔








