امریکا ایران کشیدگی میں کمی ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئیں

امریکا ایران کشیدگی میں کمی، عالمی منڈی میں خام تیل ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گیا

نیویارک: امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں نمایاں کمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز کاروبار کے اختتام پر برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمتیں ایک ہفتے سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر بند ہوئیں، جس کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں براہِ راست حملوں کا سلسلہ رکنے اور خطے میں فوری جنگ کے خدشات کم ہونے کے باعث سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی آئی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں پر شدید دباؤ دیکھنے میں آیا۔ ماہرین کے مطابق جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات بھی کم ہو جاتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔

کاروباری ہفتے کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت 8.42 ڈالر یا 8.7 فیصد کمی کے بعد 88.36 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو 17 جولائی کے بعد اس کی کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 6.70 ڈالر یا 7.5 فیصد کمی کے بعد 82.61 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی ماحول مزید بہتر ہوتا ہے اور خطے میں امن برقرار رہتا ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق جنگی خدشات میں کمی عالمی منڈی میں سپلائی کے تسلسل کو یقینی بناتی ہے، جس سے قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہوتا ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہے اور کسی بھی اچانک فوجی یا سیاسی پیش رفت کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اب بھی خطے میں ہونے والی ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ ہفتوں میں عالمی خام تیل کی قیمتوں کا انحصار صرف امریکا اور ایران کے تعلقات پر نہیں ہوگا بلکہ عالمی معیشت کی رفتار، ایندھن کی طلب، اوپیک پلس کی پیداواری پالیسی، بڑے درآمد کنندہ ممالک کی طلب اور دیگر جغرافیائی سیاسی عوامل بھی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اگر عالمی معاشی سرگرمیاں سست رہیں اور سپلائی مستحکم رہی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان موجود ہے، جبکہ کسی بھی نئی کشیدگی یا سپلائی میں رکاوٹ کی صورت میں قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔

More News