امریکا کا ایران تنازع کے سفارتی حل کا عندیہ، مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار
امریکا نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے سفارتی حل کا واضح عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تنازع کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے لبنان کے صدر سے ملاقات کے دوران دیا، جہاں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، ایران سے متعلق کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مارکو روبیو نے ملاقات کے دوران کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ سفارتی راستہ اختیار کرنے کا خواہاں ہے اور اگر مناسب ماحول میسر آیا تو مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی مکالمہ اور سفارتکاری ہی مؤثر راستہ ہے۔
پاکستان بھی مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا آ رہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔ پاکستان نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں اور علاقائی امن و استحکام کے مفاد میں بات چیت کا راستہ اپنائیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے عراق میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت سے متعلق بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ کسی براہِ راست حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک حادثہ تھا۔ ان کے مطابق امریکی فوجی اس وقت ہلاک ہوا جب وہ زمین پر گرے ہوئے ایرانی ڈرون کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مارکو روبیو نے مزید کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایک ایرانی میزائل اردن کے فضائی دفاعی نظام کو عبور کرنے میں بھی کامیاب رہا، جس سے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں مسلسل نویں رات بھی جاری رہیں۔ ترجمان کے مطابق ان حملوں میں ایرانی فوج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاعی نظام اور ساحلی نگرانی کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا اور خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب امریکا کی طرف سے سفارتی حل کی خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں صورتحال اب بھی انتہائی حساس ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کی طرف بڑھتے ہیں یا موجودہ تناؤ مزید شدت اختیار کرتا ہے۔








