ایرانی دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ کھلا، سینٹ کام کا دعویٰ
فلوریڈا: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اور خطے میں کشیدہ صورتحال کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے اور بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
سینٹ کام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد تجارتی جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے محفوظ طریقے سے گزر چکے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کامیابی ایسے وقت میں حاصل ہوئی جب ایران کی جانب سے متعدد اشتعال انگیز اور جارحانہ اقدامات کی دھمکیاں سامنے آتی رہیں، تاہم بین الاقوامی بحری نقل و حمل متاثر نہیں ہوئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس عرصے کے دوران امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو ضروری معاونت، نگرانی اور سکیورٹی فراہم کی تاکہ جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے امریکی افواج اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر علاقے میں آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سینٹ کام نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ اس لیے اس راستے کا کھلا رہنا عالمی معیشت اور توانائی کی منڈی کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح بین الاقوامی بحری راستوں کو محفوظ رکھنا اور تجارتی سرگرمیوں میں کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کو روکنا ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی برادری کی نظریں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔








