ایران افزودہ یورینیم ترک کرنے پر آمادہ، آبنائے ہرمز کھولنے پر بھی اتفاق

ایران نے افزودہ یورینیم ترک کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق کر لیا: نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ امریکی اخبار The New York Times نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کے پروگرام کو ترک کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے، جو اس مذاکراتی عمل کا سب سے حساس اور مرکزی نکتہ سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو عالمی توانائی اور تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس اقدام سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل میں آسانی اور توانائی کی منڈیوں میں استحکام کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ اس راستے پر کسی قسم کی ٹرانزٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تمام محاذوں پر جنگ بندی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے تقریباً پچیس ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے، جو اس معاہدے کا ایک اہم معاشی پہلو سمجھا جا رہا ہے۔

تاہم دوسری جانب ایرانی ذرائع نے ان خبروں کی تردید یا وضاحت بھی کی ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے Tasnim News Agency کے مطابق ایران نے تاحال جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی حتمی اقدام کو قبول نہیں کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوہری مذاکرات کے لیے ساٹھ دن کی مدت جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کے لیے تیس دن کا وقت مقرر کیا جا سکتا ہے۔

مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مجوزہ مفاہمتی مسودے میں خطے کی صورتحال سے متعلق بھی کچھ شرائط شامل ہو سکتی ہیں، جن کے تحت اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اسی طرح امریکا ممکنہ طور پر ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم یا معطل کر سکتا ہے۔

ایرانی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال معاہدے کے بعد بھی مکمل طور پر پرانی حالت میں واپس نہیں آئے گی، بلکہ ایک نئے فریم ورک کے تحت چلائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ منجمد اثاثوں کی پہلی قسط فوری طور پر جاری کرنے اور باقی رقم کے طریقہ کار پر بعد میں بات چیت کرنے کی بھی تجویز ہے۔

مجوزہ مسودے میں یہ شق بھی شامل بتائی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت دیں گے۔ اس کے تحت ایران امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملہ نہیں کرے گا جبکہ امریکا بھی ایران پر فوجی کارروائی سے گریز کرے گا۔

تاہم ماہرین کے مطابق ابھی تک ان تمام خبروں کی آزادانہ اور سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ صورتحال اب بھی غیر واضح ہے اور آئندہ دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مشرق وسطیٰ کی سیاست، عالمی توانائی منڈی اور خطے کے سلامتی کے حالات پر اس کے بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

More News