پاکستانی ایتھلیٹ مسعود خان کا عالمی ریکارڈ، پشاور سے سکردو تک 810 کلومیٹر نان اسٹاپ دوڑ مکمل
پاکستانی نوجوان ایتھلیٹ مسعود خان نے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیتے ہوئے پشاور سے سکردو تک 810 کلومیٹر سے زائد نان اسٹاپ دوڑ مکمل کر کے عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ ان کی یہ غیر معمولی کامیابی نہ صرف پاکستان کے لیے اعزاز بن گئی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کر رہی ہے۔
مسعود خان نے خیبرپختونخوا کے شہر پشاور سے گلگت بلتستان کے خوبصورت شہر سکردو تک کا دشوار گزار سفر مسلسل دوڑتے ہوئے مکمل کیا۔ اس دوران انہوں نے قراقرم ہائی وے کے خطرناک پہاڑی راستوں، بلند و بالا پہاڑوں، دریائے سندھ کے دلکش مناظر اور گلگت بلتستان کی حسین وادیوں سے گزرتے ہوئے یہ چیلنج پورا کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ سفر دنیا کے مشکل ترین روٹس میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمی حالات، دشوار راستے اور مسلسل جسمانی دباؤ کسی بھی ایتھلیٹ کے لیے بڑا امتحان ثابت ہوتے ہیں۔
نوجوان ایتھلیٹ کے مطابق انہوں نے 810 کلومیٹر کا یہ طویل سفر صرف 9 دن میں مکمل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مواقع پر شدید تھکن، جسمانی درد اور مسلسل دوڑ کے باعث ان کے قدم ڈگمگا گئے، لیکن پاکستان کا نام روشن کرنے کے جذبے نے انہیں ہمت نہیں ہارنے دی۔ مسعود خان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی فتح نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنا ان کا مقصد تھا۔ ان کے مطابق نوجوان اگر عزم اور محنت کے ساتھ آگے بڑھیں تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں رہتا۔ انہوں نے اس کامیابی کو پاکستانی نوجوانوں، کھیلوں سے وابستہ افراد اور اپنے مداحوں کے نام کیا۔
مسعود خان اس سے قبل بھی بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ وہ روس، جاپان، چین اور دیگر ممالک میں مختلف عالمی مقابلوں میں شرکت کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے متعدد تمغے اور اعزازات حاصل کیے۔ کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی مسلسل کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، ضرورت صرف مناسب مواقع، سہولیات اور حوصلہ افزائی کی ہے۔
کھیلوں کے تجزیہ کاروں کے مطابق مسعود خان کا یہ کارنامہ پاکستان میں ایڈونچر اسپورٹس اور اینڈورینس رننگ کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کامیابیاں نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرتی ہیں اور ملک کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی مسعود خان کے اس کارنامے کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، کھلاڑیوں اور صارفین نے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ثابت کر دیا کہ پاکستانی نوجوان کسی بھی میدان میں عالمی سطح پر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے ایسے باصلاحیت ایتھلیٹس کی سرپرستی کریں تو پاکستان عالمی کھیلوں میں مزید نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ مسعود خان کی کامیابی اس بات کی مثال ہے کہ عزم، محنت اور حب الوطنی کے جذبے سے ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔








