ایران امریکا کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، برینٹ 92 ڈالر جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 85 ڈالر سے تجاوز کر گیا
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان برقرار ہے، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ میں بے یقینی کی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 85 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ بین الاقوامی معیار سمجھے جانے والے برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بھی اضافے کے بعد 92.27 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے ممکنہ سپلائی خدشات اور مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کیا جانے والا ردعمل ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اگر صورتحال مزید سنگین ہوئی یا تیل کی ترسیل کے اہم راستے متاثر ہوئے تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں کمی آ سکتی ہے، جس کے باعث قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا امکان موجود ہے۔ اسی خدشے کے باعث بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی خریداری اور سرمایہ کاری کے رجحانات بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، ٹرانسپورٹ، صنعت اور روزمرہ استعمال کی اشیاء پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ تیل مہنگا ہونے سے ایندھن کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں نقل و حمل، پیداوار اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھنے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مہنگائی پر قابو پانے کی کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اضافی مالی بوجھ کا باعث بن سکتی ہیں۔ ایسے ممالک کو زیادہ زرِمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے، جس سے تجارتی خسارے اور مہنگائی میں اضافے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ حکومتوں کو مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں، سبسڈی اور توانائی سے متعلق پالیسیوں پر بھی نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند روز میں عالمی منڈی کی سمت کا انحصار بڑی حد تک ایران اور امریکا کے درمیان سیاسی و سفارتی صورتحال پر ہوگا۔ اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے تو تیل کی قیمتیں مستحکم ہو سکتی ہیں، تاہم اگر حالات مزید خراب ہوئے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی منڈیوں پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔








