ایران نے تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو اسے شدید عسکری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا: امریکی وزیر جنگ

ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملے کی صورت میں شدید عسکری ردعمل ہوگا: امریکی وزیر جنگ

امریکی وزیر جنگ Pete Hegseth نے پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا تو اسے شدید عسکری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارتی راستوں کا تحفظ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ایران کے چھ بحری جہازوں نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی، تاہم امریکی بحریہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان جہازوں کو واپس مڑنے پر مجبور کر دیا۔ ان کے مطابق اس وقت خلیجی سمندری راستے کی حفاظت کے لیے “پروجیکٹ فریڈم” جاری ہے جس کا مقصد بحری تجارت کو محفوظ اور بحال رکھنا ہے۔

پیٹ ہیگیستھ نے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) اور اتحادی ممالک سینکڑوں شپنگ کمپنیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ بحری نقل و حمل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے کی حفاظت عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا تو اسے بھرپور فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اس صورتحال کو فوری جنگ میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا اور اسے ایک عارضی سیکیورٹی مشن کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

اسی بریفنگ کے دوران امریکی جنرل Dan Caine نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر “پروجیکٹ فریڈم” کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی نقل و حرکت کو بحال رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں تقریباً 15 ہزار امریکی اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

جنرل ڈین کین کے مطابق ایران کی چھوٹی کشتیوں اور ڈرونز سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ہزاروں ملاح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر تجارتی جہازوں کو سمندر اور فضائی دونوں سطحوں پر مکمل سیکیورٹی فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی سرگرمیاں خطے میں کشیدگی کا باعث ضرور ہیں، لیکن صورتحال اس نہج تک نہیں پہنچی کہ مکمل جنگ شروع ہو۔ تاہم امریکی افواج کسی بھی بڑے پیمانے کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، اور آنے والے دنوں میں مزید بحری جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزریں گے۔

More News