ایران کا کویت اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون سے حملہ

ایران کا کویت اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کا دعویٰ، میزائل اور ڈرون کارروائیوں کا اعلان

تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکا کے حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں جاری عسکری آپریشن “نصر 2” کے تحت کی گئیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے ایک بیان میں کہا کہ آپریشن “نصر 2” کے آٹھویں مرحلے کے دوران کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس پر مشترکہ میزائل اور ڈرون حملہ کیا گیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کارروائی میں امریکی فوج کے زیر استعمال سی-ریم (C-RAM) ریڈار سسٹم اور امریکی فوجیوں کے اجتماع کے ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا۔

آئی آر جی سی نے مزید الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں کے لیے کویت کی سرزمین استعمال کی۔ ایرانی بیان میں کویتی عوام سے مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ اپنے ملک سے امریکی افواج کے انخلا کے لیے آواز بلند کریں۔ تاہم کویت یا امریکا کی جانب سے ایرانی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر خودکش ڈرونز کے ذریعے حملے کیے ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹیلی وژن آئی آر آئی بی (IRIB) کے مطابق ان حملوں میں امریکی فوج کے مواصلاتی نظام اور ایندھن ذخیرہ کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ فضائی حملوں کا جواب ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیاں کی گئیں تو مزید سخت ردعمل دیا جائے گا۔

دوسری جانب اس خبر کے حوالے سے آزاد یا بین الاقوامی ذرائع سے ان حملوں اور ان کے نتائج کی تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ امریکا، کویت اور اردن کی حکومتوں کی جانب سے بھی فوری طور پر ان ایرانی دعوؤں پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہوتی ہے تو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں، تجارتی راستوں اور بین الاقوامی استحکام پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور عالمی برادری کی نظریں آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

More News