ایف پی ایس سی نے سی ایس ایس امیدواروں میں 45 فیصد کمی کے تاثر کو مسترد کر دیا

ایف پی ایس سی نے سی ایس ایس امیدواروں میں 45 فیصد کمی کے تاثر کو مسترد کر دیا، سول سروس نوجوانوں کی اولین ترجیح قرار

فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے سی ایس ایس امتحان سے متعلق حالیہ خبروں میں سامنے آنے والے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ ملک میں سول سروس کے لیے نوجوانوں کی دلچسپی میں 45 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ بعض رپورٹس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار حقائق پر مبنی نہیں اور انہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جس سے عوام میں غلط تاثر پیدا ہوا۔ ایف پی ایس سی نے واضح کیا ہے کہ سول سروس آج بھی پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں کے لیے ایک باوقار اور پرکشش کیریئر تصور کی جاتی ہے۔

ایف پی ایس سی کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ سی ایس ایس امتحان سے متعلق شائع ہونے والی حالیہ خبر مستند اعداد و شمار کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔ کمیشن کے مطابق رپورٹ میں صرف مخصوص اعداد و شمار کو بنیاد بنایا گیا، جبکہ سی ایس ایس اسکریننگ ٹیسٹ میں حصہ لینے والے امیدواروں کی تعداد اور دیگر اہم عوامل کو نظر انداز کر دیا گیا، جس کے باعث امیدواروں کی مجموعی صورتحال درست انداز میں سامنے نہیں آ سکی۔

کمیشن نے مزید وضاحت کی کہ 2022 کے اعداد و شمار کو بھی غلط انداز میں پیش کیا گیا، حالانکہ اس سال کے نتائج اور امتحانی عمل کو مکمل تناظر میں دیکھنا ضروری تھا۔ ایف پی ایس سی کے مطابق کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تمام متعلقہ اعداد و شمار، امتحانی مراحل اور پالیسی تبدیلیوں کو مدنظر رکھنا چاہیے تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچ سکیں۔

بیان میں خصوصی سی ایس ایس 2023 کا بھی حوالہ دیا گیا، جسے بعض رپورٹس میں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ ایف پی ایس سی کے مطابق خصوصی سی ایس ایس 2023 کے تحت مجموعی طور پر 141 امیدواروں کو مختلف سول سروس گروپس میں شامل کیا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت اور کمیشن نوجوانوں کو سول سروس میں مواقع فراہم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔

ایف پی ایس سی کا کہنا ہے کہ سی ایس ایس کے ذریعے وفاقی سول سروس میں شمولیت آج بھی ہزاروں نوجوانوں کا خواب ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں امیدوار اس امتحان کی تیاری کرتے ہیں۔ کمیشن نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ نوجوانوں کا سول سروس پر اعتماد کم ہو رہا ہے، اور کہا کہ ملک بھر سے تعلیم یافتہ نوجوان اب بھی اس امتحان میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے میڈیا اداروں سے بھی اپیل کی کہ سی ایس ایس جیسے اہم قومی امتحان سے متعلق خبریں شائع کرنے سے قبل مستند اعداد و شمار اور سرکاری مؤقف کو ضرور شامل کیا جائے تاکہ عوام تک درست اور متوازن معلومات پہنچ سکیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شفاف، میرٹ پر مبنی اور منصفانہ امتحانی نظام کے ذریعے اہل امیدواروں کو قومی خدمت کے مواقع فراہم کرتا رہے گا۔

More News