ای سی سی نے پٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز مارجن میں اضافے کی منظوری دے دی
اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز مارجن میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ڈیلرز مارجن پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے مارجن میں نظرثانی کی سمری بھی پیش کی گئی۔
ای سی سی نے سمری کا جائزہ لینے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کے ڈیلرز مارجن میں اضافے کی منظوری دی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، علی پرویز ملک اور احد خان چیمہ سمیت متعلقہ وزارتوں کے وفاقی سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مذاکرات کے بعد 15 اگست کو ہونے والی ملک گیر ہڑتال موخر کردی تھی۔ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے بتایا تھا کہ وزیر پٹرولیم کی جانب سے منافع مارجن میں اضافے کی یقین دہانی کے بعد ہڑتال ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ملک خدا بخش کے مطابق وزیراعظم کی خصوصی منظوری کے بعد پٹرولیم ڈیلرز کے منافع مارجن میں ایک روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیلرز کے مطالبات پر غور کرتے ہوئے ای سی سی کا اجلاس بھی طلب کیا گیا۔
ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین طارق حسن کے مطابق ڈیلرز نے منافع مارجن میں 8 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے 4 سے 5 فیصد اضافہ مناسب بنتا ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ اضافے کے بعد پٹرول پر ڈیلرز کا فی لیٹر مارجن 10 روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
اجلاس کے دوران آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے کوٹہ سسٹم کے خاتمے کے معاملے پر بھی پیش رفت ہوئی۔ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے۔
دوسری جانب حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس کو 23 مارچ 2027 تک ڈیجیٹل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس سے پٹرولیم مصنوعات کی فروخت، ریکارڈ اور نگرانی کے نظام میں بہتری لانے کی توقع ہے۔
طارق حسن نے بتایا کہ وزارت پٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ ردوبدل کے موجودہ نظام سے متعلق سمری وزیراعظم کو بھی ارسال کردی ہے۔ تجویز میں قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کے بجائے سات روزہ نظام متعارف کرانے پر غور کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ای سی سی اور وفاقی کابینہ کرے گی۔








