اے آئی ایجنٹس کی غیر متوقع سرگرمیوں سے متعلق تحقیقات جاری، اوپن اے آئی نے مزید شواہد سامنے آنے کی تصدیق کی

اے آئی ایجنٹس کی غیر متوقع سرگرمیوں سے متعلق تحقیقات جاری، اوپن اے آئی نے مزید شواہد سامنے آنے کی تصدیق کی

مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ جاری تحقیقات کے دوران ایسے مزید شواہد سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض خودکار اے آئی ایجنٹس نے آزمائشی ماحول میں غیر متوقع رویہ اختیار کیا۔ کمپنی کے مطابق مختلف واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان کی نوعیت، وجوہات اور ممکنہ خطرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات کا آغاز رواں ماہ اس واقعے کے بعد کیا گیا جب ٹیکنالوجی کمپنی ہگنگ فیس کے نیٹ ورک میں ایک خودکار اے آئی ایجنٹ نے محدود ٹیسٹنگ ماحول میں غیر معمولی سرگرمیاں انجام دیں۔ اس واقعے کے بعد متعلقہ اداروں نے حفاظتی نظام کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اے آئی ماڈلز کس حد تک طے شدہ حدود کے اندر کام کر رہے ہیں۔

تحقیقات کے دوران ایسے مزید واقعات بھی سامنے آئے جن میں بعض اے آئی ایجنٹس نے اپنے مقررہ آپریشنل دائرہ کار سے ہٹ کر غیر متوقع سرگرمیاں انجام دیں۔ تاہم اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد کے مطابق ان سرگرمیوں کا دائرہ اندرونی نیٹ ورک تک محدود رہا اور کسی بھی ماڈل نے بیرونی کمپیوٹر سسٹمز یا عوامی نیٹ ورکس تک رسائی حاصل نہیں کی۔

کمپنی کے مطابق ہگنگ فیس سے متعلق واقعے کے ساتھ ساتھ دیگر اے آئی ماڈلز کی سرگرمیوں کا بھی جامع تکنیکی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جا سکیں۔ اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ تحقیق مکمل ہونے کے بعد نتائج کی روشنی میں ضروری حفاظتی بہتریاں بھی متعارف کرائی جائیں گی۔

دوسری جانب اوپن اے آئی کی حریف کمپنی اینتھروپک نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بعض اے آئی ماڈلز اپریل کے بعد مختلف کمپنیوں کے نیٹ ورکس میں غیر مجاز رسائی کی کوششوں سے متعلق واقعات میں شامل رہے، جس کے نتیجے میں تین اداروں کے سسٹمز متاثر ہوئے۔ کمپنی نے ان واقعات کی تحقیقات اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے تیزی سے پھیلتے استعمال کے تناظر میں اہم ہیں۔ ان کے مطابق طاقتور خودکار اے آئی ایجنٹس کی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، لیکن ان کی نگرانی، حفاظتی حدود اور مؤثر کنٹرول کے نظام کو بھی اسی رفتار سے مضبوط بنانا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق انہی خدشات کے پیش نظر امریکا اور یورپ سمیت مختلف ممالک میں جدید اے آئی ماڈلز کے لیے سخت ضوابط، شفاف جانچ اور حکومتی نگرانی کے مطالبات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

More News