اے پلس طالب علم کو بیالوجی میں صفر نمبر کیوں؟ پشاور ہائیکورٹ نے کنٹرولر امتحانات طلب کرلیا
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے بیالوجی کے تھیوری پرچے میں طالب علم عبدالمعیز کو صفر نمبر دیے جانے کے معاملے پر کنٹرولر امتحانات کو طلب کرتے ہوئے متعلقہ طالب علم کا اصل پرچہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا، جس کے مطابق کنٹرولر امتحانات کو طالب علم عبدالمعیز کا بیالوجی کا تھیوری پرچہ عدالت میں معائنے کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ طالب علم نے دیگر تمام مضامین میں اے پلس گریڈ حاصل کیا، تاہم بیالوجی کے تھیوری پرچے میں اسے صفر نمبر دیے گئے، جس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ مجموعی طور پر بہترین تعلیمی کارکردگی رکھنے والے طالب علم کو ایک مضمون میں صفر نمبر ملنا تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے بیالوجی کے پرچے کی جانچ اور نمبر دینے کے عمل کا جائزہ لینے کی استدعا کی۔
عدالت نے معاملے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے متعلقہ امتحانی حکام کو طالب علم کا اصل بیالوجی پرچہ پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس کا براہ راست معائنہ کیا جاسکے اور صفر نمبر دیے جانے کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
عدالت نے کنٹرولر امتحانات کو بھی طلب کرلیا ہے تاکہ معاملے سے متعلق ضروری وضاحت حاصل کی جا سکے۔ اصل پرچے کے معائنے کے بعد یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ طالب علم کو صفر نمبر دینے کی وجہ کیا تھی اور آیا پرچے کی جانچ کے عمل میں کوئی غلطی یا بے ضابطگی ہوئی۔
مقدمے کی مزید سماعت 25 اگست تک ملتوی کردی گئی ہے۔ آئندہ سماعت میں عدالت متعلقہ پرچے اور امتحانی حکام کی وضاحت کا جائزہ لے گی۔
یہ معاملہ امتحانی نظام میں شفافیت اور طلبہ کے نتائج کی درست جانچ کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے طالب علم کے کیس میں جس نے دیگر مضامین میں اے پلس گریڈ حاصل کیا ہو۔






