بجلی صارفین کیلئے سبسڈی اسکیم کی آڑ میں نیا فراڈ، پاور ڈویژن نے عوام کو خبردار کردیا
اسلام آباد: ملک بھر میں بجلی صارفین کو حکومتی سبسڈی اور ریلیف دینے کے نام پر ایک نئے آن لائن فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد پاور ڈویژن نے فوری طور پر عوام کیلئے اہم ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کردی ہے۔ حکام کے مطابق سائبر جرائم میں ملوث عناصر جدید طریقوں سے صارفین کو نشانہ بنا رہے ہیں اور جعلی لنکس، پیغامات اور کیو آر کوڈز کے ذریعے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
ترجمان پاور ڈویژن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بعض ہیکرز اور جرائم پیشہ گروہ بجلی صارفین کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے خصوصی سبسڈی یا بجلی بلوں میں ریلیف فراہم کیا جارہا ہے۔ اس مقصد کیلئے صارفین کو موبائل فون پر پیغامات بھیجے جاتے ہیں جن میں ایک مخصوص لنک یا کیو آر کوڈ موجود ہوتا ہے۔ صارفین جیسے ہی ان لنکس پر کلک کرتے ہیں انہیں مختلف مراحل میں ذاتی معلومات درج کرنے کا کہا جاتا ہے۔
بیان کے مطابق فراڈی عناصر صارفین سے شناختی کارڈ نمبر، موبائل نمبر، بینکنگ معلومات اور دیگر حساس تفصیلات طلب کرتے ہیں۔ بعض کیسز میں صارفین کو چھ ہندسوں پر مشتمل تصدیقی کوڈ بھی درج کرنے کیلئے کہا جاتا ہے جو دراصل ان کے موبائل یا بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی معلومات فراہم کرنے سے شہری مالی نقصان اور ڈیجیٹل فراڈ کا شکار ہوسکتے ہیں۔
ترجمان پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ حکومت یا متعلقہ ادارے سبسڈی کے حصول کیلئے اس قسم کے غیر رسمی یا غیر مصدقہ طریقہ کار استعمال نہیں کرتے۔ بجلی بل سے متعلق تمام معلومات صرف سرکاری نظام اور مستند ذرائع کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی صارف سے ذاتی معلومات کسی تیسرے پلیٹ فارم یا غیر سرکاری ویب سائٹ پر طلب نہیں کی جاتیں لہٰذا ایسے تمام پیغامات اور لنکس مشکوک تصور کیے جائیں۔
پاور ڈویژن نے مزید بتایا کہ اس معاملے سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سائبر کرائم ونگ کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے تاکہ ملوث عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔ حکام کے مطابق سائبر فراڈ کے واقعات میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے باعث عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہوچکی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہیکرز اکثر ایسے مواقع کا فائدہ اٹھاتے ہیں جب حکومت عوام کو کسی ریلیف یا مالی سہولت کا اعلان کرتی ہے۔ شہری فوری فائدہ حاصل کرنے کی امید میں غیر مصدقہ لنکس پر اعتماد کرلیتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کا ذاتی ڈیٹا خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی نامعلوم لنک پر کلک کرنے یا کیو آر کوڈ اسکین کرنے سے پہلے مکمل تصدیق کریں۔
ایڈوائزری میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی نامعلوم یا غیر مصدقہ لنک پر کلک نہ کریں، غیر متعلقہ کیو آر کوڈ اسکین کرنے سے گریز کریں، اپنا OTP، بینک تفصیلات یا شناختی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، صرف سرکاری ویب سائٹس اور متعلقہ اداروں کے تصدیق شدہ ذرائع پر اعتماد کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
ترجمان نے کہا کہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں احتیاط سے کام لیں اور سوشل میڈیا یا موبائل پیغامات پر موصول ہونے والی ہر اطلاع کو درست نہ سمجھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سائبر سیکیورٹی سے متعلق شعور اجاگر کرکے ہی ایسے جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جاسکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مختلف سرکاری اداروں، بینکوں اور موبائل کمپنیوں کے نام پر جعلی پیغامات کے ذریعے شہریوں کو دھوکہ دینے کی متعدد کوششیں سامنے آچکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کی معمولی غفلت بھی بڑے مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے اس لیے ہر صارف کو آن لائن سرگرمیوں میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔








