بجٹ پر حکومت اور پی پی میں اختلافات دور نہ ہوسکے، بلاول نے احتجاجاً اسمبلی میں تقریرملتوی کردی

وفاقی بجٹ پر حکومت اور پیپلزپارٹی میں اختلافات برقرار، بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں تقریر ملتوی کردی

اسلام آباد:ویب ڈیسک

وفاقی بجٹ 2026-27 کے معاملے پر حکومت اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان اختلافات تاحال برقرار ہیں، جس کے باعث پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران اپنی تقریر احتجاجاً ملتوی کر دی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے بلاول بھٹو زرداری کو وفاقی بجٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، جس میں بجٹ سے متعلق اہم امور اور حکومت کے ساتھ ہونے والی مشاورت کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بریفنگ کے دوران نوید قمر نے بلاول بھٹو زرداری کو آگاہ کیا کہ حکومت کی جانب سے مشاورتی عمل کے دوران پیپلزپارٹی کے ساتھ جو بجٹ تجاویز، مالی تخمینے اور اعداد و شمار شیئر کیے گئے تھے، قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے حتمی بجٹ میں ان کے مقابلے میں نمایاں فرق موجود ہے۔

پیپلزپارٹی کے ذرائع کے مطابق بجٹ میں پائے جانے والے ان اختلافات پر پارٹی قیادت نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ بجٹ جیسے اہم قومی معاملے پر اتحادی جماعتوں کو مکمل اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم جلد حکومتی نمائندوں سے رابطہ کرے گی اور بجٹ سے متعلق پیدا ہونے والے تحفظات اور اختلافات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ مشاورت کے دوران طے پانے والے نکات اور قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بجٹ کے درمیان موجود فرق کی وضاحت ضروری ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر ملتوی کرنا ایک اہم سیاسی پیغام ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پیپلزپارٹی بجٹ کے بعض نکات پر سنجیدہ تحفظات رکھتی ہے اور ان کے حل تک اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہونے والے رابطے اور مذاکرات اس معاملے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

More News