جامعہ پشاور میں مالی بحران، تمام گاڑیاں یونیورسٹی ٹرانسپورٹ پول میں جمع کرانے کا فیصلہ

مالی بحران کے پیشِ نظر جامعہ پشاور کا بڑا فیصلہ، تمام سرکاری گاڑیاں ٹرانسپورٹ پول میں جمع کرانے کی ہدایت

پشاور:عارف اکرام

ملک کی قدیم اور بڑی جامعات میں شمار ہونے والی جامعہ پشاور کو درپیش مالی مشکلات کے باعث انتظامیہ نے اخراجات میں کمی اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کی تمام سرکاری گاڑیاں یونیورسٹی ٹرانسپورٹ پول میں جمع کرانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

ایڈیشنل رجسٹرار جامعہ پشاور کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ آفس آرڈر کے مطابق یونیورسٹی کے مختلف شعبوں، دفاتر اور اداروں کے زیر استعمال تمام گاڑیاں فوری طور پر مرکزی ٹرانسپورٹ پول کے حوالے کی جائیں گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ٹرانسپورٹ وسائل کے غیر ضروری استعمال کو روکنا، ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات میں کمی لانا اور محدود مالی وسائل کا بہتر انتظام یقینی بنانا ہے۔

آفس آرڈر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ جامعہ پشاور سینیٹ کے 138ویں اجلاس میں ہونے والی مشاورت اور ڈینز کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی حکام کے مطابق موجودہ مالی صورتحال کے پیشِ نظر انتظامی اخراجات کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، جس کے لیے مختلف سطحوں پر کفایت شعاری کے اقدامات اختیار کیے جا رہے ہیں۔

دستاویز کے مطابق فیصلے کا اطلاق صرف انتظامی دفاتر تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ڈینز کے دفاتر، تدریسی شعبہ جات، تحقیقی اداروں، مراکز، کالجز اور اسکولز کے زیر استعمال تمام سرکاری گاڑیاں بھی ٹرانسپورٹ پول میں جمع کرائی جائیں گی۔ اس سلسلے میں پرنسپلز، ڈینز، ڈائریکٹرز اور شعبہ جات کے سربراہان کو فوری عملدرآمد کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے کفایت شعاری مہم کے تحت اعلیٰ حکام کے اخراجات میں بھی کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ آفس آرڈر کے مطابق وائس چانسلر نے اپنی سرکاری گاڑی کے پی او ایل (پٹرول، آئل اور لبریکنٹس) اخراجات سے ماہانہ 20 ہزار روپے کی کٹوتی کا حکم دیا ہے، جسے مالی نظم و ضبط کے فروغ اور وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

جامعہ پشاور کو گزشتہ چند برسوں سے مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے انتظامی امور، ترقیاتی منصوبوں اور روزمرہ اخراجات کے انتظام میں مختلف چیلنجز پیش آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری جامعات کو بڑھتے ہوئے اخراجات، محدود فنڈنگ اور وسائل کی کمی جیسے مسائل درپیش ہیں، جس کے باعث اداروں کو کفایت شعاری کی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا پڑ رہا ہے۔

یونیورسٹی حکام کے مطابق گاڑیوں کو مرکزی ٹرانسپورٹ پول میں منتقل کرنے سے نہ صرف ایندھن اور مرمت کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ گاڑیوں کی دستیابی اور استعمال کو بھی بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے گا۔ اس اقدام کے ذریعے وسائل کے ضیاع کو روکنے اور مالی دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مالی استحکام کے حصول اور ادارے کے انتظامی معاملات کو مؤثر بنانے کے لیے مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں پر کم سے کم اثر پڑے اور دستیاب وسائل کو زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

More News