بلوچستان کے دنیا کے میٹھے ترین بغیر بیج انگور کو موسمیاتی تبدیلی اور سمگلنگ سے خطرہ
بلوچستان پاکستان میں انگور کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں ملک کی مجموعی انگور پیداوار کا تقریباً 98 فیصد حاصل ہوتا ہے۔ صوبے کی موزوں آب و ہوا، زرخیز زمین اور مختلف اقسام کے باعث بلوچستان کے انگور نہ صرف ملک بھر میں مقبول ہیں بلکہ اپنی مٹھاس اور معیار کے حوالے سے بھی منفرد سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی، پانی کی شدید قلت اور افغانستان سے انگور کی مبینہ سمگلنگ نے مقامی کاشتکاروں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
کوئٹہ کے نواح میں موجود ایک قدیم باغ اس خطے کی انگور کی کاشت کی طویل تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔ 72 سالہ باغ مالک ملک یونس شاہوانی کے مطابق ان کے خاندان کا یہ باغ تقریباً 120 سال پرانا ہے۔ باغ میں انگور کی تقریباً 20 اقسام موجود ہیں، جن میں شنڈو خانی، حائیطہ، عسکری، سرخ کشمش، سفید کشمش، کالا کشمش، صاحبی، خیر غلاماں، مقامی لال انگور اور امریکن ریڈ گلوب شامل ہیں۔
زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے سیکریٹری جنرل عبدالرحمان بازئی کے مطابق شنڈو خانی، جسے سُندر خانی بھی کہا جاتا ہے، بلوچستان کے مقبول ترین انگوروں میں سرفہرست ہے۔ اس انگور کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بغیر بیج کے ہوتا ہے، لمبا اور انتہائی میٹھا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کی پیداوار نسبتاً کم ہے، تاہم مارکیٹ میں اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔
زرعی ماہر عبدالسلام بلوچ کے مطابق شنڈو خانی، کشمش اور حائیطہ بلوچستان کی نمایاں اقسام ہیں۔ حائیطہ میں بیج موجود ہوتا ہے اور اسے ضرورت کے مطابق کشمش میں تبدیل کرکے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان میں انگور کی کاشت کو سب سے بڑا خطرہ پانی کی کمی سے ہے۔ ملک یونس شاہوانی کا کہنا ہے کہ ان کے قدیم باغ کے لیے زیر زمین پانی ایک ہزار فٹ سے بھی زیادہ نیچے جا چکا ہے، جس کے باعث باغات کو زندہ رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بعض اوقات انہیں دوسرے ٹیوب ویلوں سے پانی خریدنا پڑتا ہے۔
کاشتکاروں کے مطابق بلوچستان طویل عرصے سے خشک سالی اور کم بارشوں کا سامنا کر رہا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گرنے سے باغات خشک ہو رہے ہیں اور انگور سمیت دیگر پھلوں کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ 2022 کے سیلاب سے متاثرہ ڈیموں کی بحالی اور نئے ڈیموں کی تعمیر کو بھی پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے کاشتکار افغانستان سے انگور کی مبینہ سمگلنگ کو بھی اپنے لیے بڑا نقصان قرار دیتے ہیں۔ عبدالرحمان بازئی کے مطابق مقامی پیداوار ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے، لیکن سمگل شدہ انگور مارکیٹ میں آنے سے مقامی کسانوں کو مناسب قیمت نہیں ملتی۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بلوچستان میں انگور کی کاشت بچانے کے لیے روایتی آبپاشی کے بجائے جدید اور پانی بچانے والے طریقے اپنانا ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر آبپاشی نظام، ڈیموں کی تعمیر اور باغات کے تحفظ کے لیے حکومتی معاونت ہی اس قیمتی زرعی ورثے کو محفوظ بنا سکتی ہے۔








