ضلع خیبر میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے ایک ارب روپے منظور

ضلع خیبر میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے ایک ارب روپے منظور

باڑہ: خیبرپختونخوا حکومت نے ضلع خیبر سمیت صوبے میں منشیات کے عادی افراد کی آگاہی، علاج اور بحالی کے پروگرام کی دوبارہ بحالی کیلئے ایک ارب روپے کی منظوری دے دی، جبکہ پروگرام آئندہ ۳۰ سے ۴۰ روز میں عملی طور پر شروع ہونے کا امکان ہے۔

تحصیل باڑہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے بتایا کہ ماضی میں صوبائی حکومت کی ہدایات پر منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا پروگرام شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت ۴ ہزار ۸۳۰ افراد کو مفت علاج اور بحالی کی سہولیات فراہم کی گئیں، تاہم بعد ازاں پروگرام میں تسلسل برقرار نہ رہ سکا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے بحالی پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں اور اس کیلئے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ریاض خان محسود کے مطابق پروگرام کا باقاعدہ فریم ورک تیار کرلیا گیا ہے اور مکمل تیاری کے ساتھ اس پر عملی کام شروع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور اور ضلع خیبر میں منشیات کے عادی افراد کو باعزت ماحول میں مفت علاج فراہم کرکے انہیں دوبارہ معاشرے کا مفید شہری بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔

کمشنر پشاور نے کہا کہ ترقی صرف سڑکوں، پلوں، اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر کا نام نہیں بلکہ انسانی وسائل کی ترقی اور معاشرے کے کمزور طبقات کی بحالی بھی حقیقی ترقی کا حصہ ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے عادی افراد کو معاشرے میں اکثر انتہائی کمتر سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ان میں سے بیشتر کو علاج اور مناسب رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بروقت علاج نہ ملنے کی صورت میں ایسے افراد مختلف بیماریوں اور جرائم کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔

ریاض خان محسود نے بتایا کہ منشیات کی روک تھام کیلئے پولیس، ایکسائز اور اینٹی نارکوٹکس فورس سمیت متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں اور منشیات فروشوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پشاور سنٹرل جیل کے دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جیل میں قید ۵۰ فیصد سے زائد افراد مبینہ طور پر منشیات فروشی یا منشیات کے استعمال سے متعلق مقدمات میں ملوث تھے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

کمشنر پشاور نے خبردار کیا کہ منشیات کا پھیلاؤ معاشرے کیلئے انتہائی خطرناک ناسور بن سکتا ہے، اس لیے صرف منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کافی نہیں بلکہ متاثرہ افراد کی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ باعزت زندگی کی طرف واپسی بھی ضروری ہے۔

تقریب میں رکن قومی اسمبلی حاجی محمد اقبال آفریدی، رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی، ڈپٹی کمشنر خیبر شاہد علی، ڈی پی او خیبر وقار احمد، اینٹی نارکوٹکس فورس اور محکمہ سماجی بہبود کے افسران سمیت دیگر متعلقہ حکام اور علاقہ عمائدین نے شرکت کی۔

حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت، متعلقہ اداروں اور عوام کے باہمی تعاون سے منشیات کے خاتمے اور متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

More News