بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے آسٹریلوی سرزمین پر تاریخ رقم کر دی، آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست
ڈارون: بنگلہ دیش نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو اسی کی سرزمین پر پہلے ٹیسٹ میچ میں 9 وکٹوں سے شکست دے کر تاریخ رقم کردی۔ یہ آسٹریلوی سرزمین پر بنگلہ دیش کی پہلی ٹیسٹ فتح ہے، جس کے ساتھ مہمان ٹیم نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کرلی۔
میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس کے بعد پہلی اننگز میں 198 رنز بنائے۔ آسٹریلوی بیٹنگ لائن اپ میں اسٹیو اسمتھ نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 71 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کی اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی، تاہم بنگلہ دیشی باؤلرز نے مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔
بنگلہ دیش کی جانب سے حسن محمود نے تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے 6 آسٹریلوی بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ ان کی شاندار باؤلنگ کے باعث آسٹریلیا بڑا مجموعہ بنانے میں ناکام رہا اور پہلی اننگز میں 198 رنز تک محدود ہوگیا۔
جواب میں بنگلہ دیش نے بیٹنگ میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور پہلی اننگز میں 426 رنز بنا کر آسٹریلیا پر 228 رنز کی بڑی برتری حاصل کرلی۔ تنزید حسن نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 101 رنز کی سنچری اسکور کی، جبکہ نجم الحسین شانتو نے 84 اور مہدی حسن میراز نے 65 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔
آسٹریلیا کی جانب سے جوش ہیزل ووڈ نے بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں، تاہم بنگلہ دیش کے بڑے مجموعے کو روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
آسٹریلیا نے دوسری اننگز میں قدرے بہتر بیٹنگ کی اور 284 رنز بنائے۔ کیمرون گرین نے شاندار مزاحمت کرتے ہوئے 104 رنز کی سنچری اسکور کی، لیکن ان کی اننگز بھی آسٹریلیا کو اننگز کی شکست سے نہ بچا سکی۔ بنگلہ دیشی باؤلرز نے اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کرکے میزبان ٹیم کو بڑا ہدف دینے سے روک دیا۔
بنگلہ دیش کی جانب سے مہدی حسن میراز نے دوسری اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ حسن محمود نے پورے میچ میں مجموعی طور پر 9 وکٹیں حاصل کرکے تاریخی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
آسٹریلیا کی جانب سے بنگلہ دیش کو فتح کے لیے صرف 57 رنز کا ہدف ملا، جسے مہمان ٹیم نے صرف ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ مومن الحق نے 30 جبکہ شادمان اسلام نے 25 رنز بنا کر ٹیم کو کامیابی تک پہنچایا۔
اس تاریخی فتح کے ساتھ بنگلہ دیش نے نہ صرف آسٹریلوی سرزمین پر اپنی پہلی ٹیسٹ کامیابی حاصل کی بلکہ دو میچوں کی سیریز میں بھی 1-0 کی برتری حاصل کرلی۔ بنگلہ دیش کی اس کامیابی کو ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔





