بچوں کے نان نفقہ سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے بچوں کے نان نفقہ سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ والدین باہمی رضامندی سے نابالغ بچوں کے نان نفقے کی رقم کم یا ختم نہیں کرسکتے، کیونکہ نان نفقہ والدین کا نہیں بلکہ بچے کا قانونی حق ہے۔
جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں نابالغ بچی کی درخواست منظور کرتے ہوئے فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ جج سرگودھا کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے اور معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا۔
مقدمے کے مطابق فیملی کورٹ نے 24 جنوری 2026 کو نابالغ بچی اور اس کے بھائی کا نان نفقہ 30،30 ہزار روپے ماہانہ مقرر کیا تھا۔ یہ رقم بچوں کی والدہ کی رضامندی کی بنیاد پر طے کی گئی تھی، جبکہ والدہ نے فی بچہ 30 ہزار روپے ماہانہ قبول کرنے کے ساتھ بعض دیگر مطالبات سے دستبردار ہونے پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی۔
بچوں کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی، تاہم ڈسٹرکٹ جج سرگودھا نے 26 مارچ 2026 کو اپیل خارج کردی۔ بعد ازاں نابالغ بچی نے اپنی والدہ کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ والدین آپس میں سمجھوتہ کرسکتے ہیں، لیکن ایسا کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے جس سے نابالغ بچے کا قانونی حق کم یا ختم ہوجائے۔ عدالت کے مطابق والدہ یا سرپرست بھی بچے کے نان نفقے کو اپنی مرضی سے معاف یا کم کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔
عدالت نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ صرف والدین کے باہمی سمجھوتے کو قبول کرنے کی پابند نہیں۔ نان نفقہ مقرر کرتے وقت عدالت کو خود بچوں کی ضروریات، فلاح و بہبود اور مفاد کا جائزہ لینا ہوگا، جبکہ والد کی مالی استطاعت اور سماجی حیثیت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر سرپرست کی جانب سے ایسا سمجھوتہ کیا جائے جو بچے کے مفاد یا قانونی حق کو متاثر کرتا ہو تو اسے بچے کے خلاف قابلِ عمل نہیں سمجھا جاسکتا۔ عدالت کو نان نفقے کا تعین والدین کی رضامندی سے زیادہ بچے کی ضروریات اور مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا ہوگا۔
لاہور ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ کو ہدایت کی کہ کیس کی دوبارہ سماعت کرتے ہوئے بچوں کی حقیقی ضروریات، ان کی فلاح و بہبود اور والد کی مالی استطاعت و سماجی حیثیت کا جائزہ لیا جائے اور نان نفقہ نئے سرے سے مقرر کیا جائے۔








