تجارتی خسارے میں 18 فیصد اضافہ، پاکستان کی درآمدات اور برآمدات میں فرق بڑھ گیا

تجارتی خسارے میں 18 فیصد اضافہ، پاکستان کی درآمدات اور برآمدات میں فرق بڑھ گیا

اسلام آباد: پاکستان کے تجارتی خسارے میں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران 18.11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد تجارتی خسارہ 6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 7.11 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست کے دوران گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں درآمدات میں 13 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ اشیا کی برآمدات میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دو ماہ کے دوران پاکستان کی برآمدات 5.45 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 12.57 ارب ڈالر رہیں۔ یوں درآمدات اور برآمدات کے درمیان نمایاں فرق کے باعث تجارتی خسارہ بڑھ گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق اگست میں جولائی کے مقابلے میں برآمدات 15 فیصد کم ہوئیں اور ماہانہ برآمدات کا حجم 2.95 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2.50 ارب ڈالر رہ گیا۔ تاہم اگست 2025 کے مقابلے میں گزشتہ ماہ برآمدات میں 3.81 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ درآمدات 7.38 فیصد اضافے کے ساتھ 5.67 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

تجارتی خسارہ کیا ہے؟

تجارتی خسارہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی ملک کی ایک مقررہ مدت کے دوران درآمدات کی مالیت برآمدات سے زیادہ ہوجائے۔ دوسرے الفاظ میں جب ملک بیرونِ ملک سے اشیا زیادہ خریدے اور بیرونِ ملک کم اشیا فروخت کرے تو درآمدات اور برآمدات کے درمیان یہ فرق تجارتی خسارہ کہلاتا ہے۔

تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت پر دباؤ ڈال سکتا ہے، کیونکہ درآمدات کی ادائیگی کے لیے زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ درکار ہوتا ہے۔ اگر برآمدات اسی رفتار سے نہ بڑھیں تو بیرونی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے حکومتی اقدامات

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت تجارت میں سہولیات سے متعلق اجلاس میں ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ وزیراعظم خود بورڈ کی صدارت کریں گے۔

بورڈ کا مقصد تجارت کی مکمل سپلائی چین میں بہتری، سرحد پار تجارت سے متعلق نان ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے اور تجارت کے فروغ کے لیے روڈ میپ اور مانیٹرنگ حکمت عملی تیار کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے بندرگاہوں کی استعداد کار بہتر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اور ورکنگ گروپس تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی۔ ان گروپس کے ذریعے بندرگاہوں کی کارکردگی، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے، ریگولیٹری امور اور پری ارائیول کلیئرنس سمیت مختلف معاملات کو بہتر بنایا جائے گا۔

وزیراعظم نے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے بندرگاہوں پر مال کی ترسیل اور کلیئرنس کے عمل کو مزید آسان بنانے کی بھی ہدایت کی۔

More News