تعلیمی سرگرمیاں 3 اگست سےبحال کی جائیں،نجی اسکولوں کا مطالبہ

نجی اسکولوں کا تعلیمی سرگرمیاں 3 اگست سے بحال کرنے کا مطالبہ

لاہور: پنجاب میں نجی اسکولوں کی نمائندہ تنظیم پرائیویٹ اسکول سلوشنز آف پاکستان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات میں کمی کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کو 24 اگست کے بجائے 3 اگست 2026 سے کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ طلبہ کے تعلیمی نقصان کا بروقت ازالہ کیا جا سکے اور نصاب مقررہ وقت میں مکمل کیا جا سکے۔

یہ مطالبہ تنظیم کے صدر ملک عبدالصمد کی زیر صدارت منعقدہ ایک اہم اجلاس میں سامنے آیا، جس میں نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل، حکومتی پالیسیوں، رجسٹریشن کے معاملات اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ طویل گرمیوں کی تعطیلات کے باعث طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، اس لیے اسکول جلد کھولنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تنظیم کے عہدیداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر تعلیمی ادارے 3 اگست سے کھولنے کی اجازت دی جائے تو طلبہ کا تعلیمی نقصان کم ہوگا، نصاب بروقت مکمل کیا جا سکے گا اور امتحانات کی تیاری بھی بہتر انداز میں ممکن ہوگی۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ طلبہ کے وسیع تر مفاد میں اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

اجلاس کے دوران صدر پرائیویٹ اسکول سلوشنز آف پاکستان ملک عبدالصمد نے غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں پر بھی زور دیا کہ وہ فوری طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں تاکہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن نہ کرانے والے اداروں کو مستقبل میں قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں و کالجوں میں 22 مئی سے 23 اگست 2026 تک گرمیوں کی تعطیلات کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے مطابق تعلیمی ادارے 24 اگست سے دوبارہ کھلنے ہیں۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں اور اکیڈمیوں کے خلاف کارروائی بھی تیز کر دی ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے ایک ہی روز میں 744 غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔ حکام کے مطابق ان اداروں کو تین روز کے اندر رجسٹریشن مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، بصورت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ تعلیمی ادارے چلانے والوں پر قانون کے مطابق 3 لاکھ سے 40 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد تعلیمی نظام کو منظم، شفاف اور قانونی تقاضوں کے مطابق چلانا ہے تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

More News