تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد اضافے کی تجویز، وزیر اعظم اتحادیوں سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کرینگے

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد اضافے کی تجویز، حتمی فیصلہ مشاورت سے ہوگا

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد اضافے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے، جبکہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کریں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس میں ایک غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا، جس میں نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی)، ٹیکس پالیسی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں ممکنہ اضافے سمیت اہم مالی معاملات زیر غور آئے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے وزیراعظم کو بجٹ کے اہم نکات اور مالی صورتحال پر بریفنگ دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ افراط زر کی شرح اور معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی کہ دستیاب مالی وسائل اور حکومتی استعداد کے مطابق تفصیلی ورکنگ تیار کی جائے تاکہ ملازمین کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق حکومت تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے اور بجٹ کو حتمی شکل دینے سے قبل اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ اس کے بعد ہی سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج اور تنخواہوں میں اضافے کی حتمی شرح کا اعلان کیا جائے گا۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے دباؤ کے باعث سرکاری ملازمین کو مناسب ریلیف فراہم کرنا حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج ہے، جبکہ دوسری جانب مالی نظم و ضبط اور بجٹ خسارے کو قابو میں رکھنا بھی ضروری ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 آئندہ چند روز میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس میں ترقیاتی منصوبوں، ٹیکس اصلاحات، سرکاری اخراجات اور ملازمین کے لیے ممکنہ ریلیف سے متعلق اہم اعلانات متوقع ہیں

More News