پیٹرول پر لیوی اور ٹیکس کے خلاف جماعت اسلامی کا 7 اگست کو احتجاج کا اعلان
کراچی: جماعت اسلامی پاکستان نے پیٹرول پر عائد لیوی اور ٹیکس کے خلاف 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی نے عوام، خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج میں بھرپور شرکت کریں اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ اس اعلان کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرول پر عائد لیوی عوام پر اضافی مالی بوجھ ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مہنگائی پہلے ہی عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر چکی ہے، جبکہ پیٹرول پر مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکس اور لیوی نے عام شہری، مزدور، کسان اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی ٹیکس اور لیوی واپس لے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ 7 اگست کو سڑکوں پر نکلیں، اپنی موٹر سائیکلیں کھڑی کرکے پرامن انداز میں احتجاج کریں اور حکومت تک اپنا پیغام پہنچائیں۔ حافظ نعیم نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن، منظم اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جائے تاکہ عوام کی آواز مؤثر انداز میں حکمرانوں تک پہنچ سکے۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ کراچی میں جماعت اسلامی کے امیر منعم ظفر جلد ہی احتجاجی پروگرام کی تفصیلات، مقامات اور شیڈول کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس احتجاج میں شریک ہوں گے اور عوامی حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کریں گے۔
اس موقع پر حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں عوام کے سامنے ایک دوسرے کی مخالفت کا تاثر دیتی ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اتحادی ہیں اور ان کے درمیان ہونے والی سیاسی کشیدگی محض “نورا کشتی” ہے۔
جماعت اسلامی کے اس اعلان کو بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور معاشی دباؤ کے خلاف ایک نئی احتجاجی مہم کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے پیٹرول پر عائد لیوی اور ٹیکس واپس نہ لیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔








