جنگ اور جنگ بندی کے دوران 18 ارب ڈالر کا تیل فروخت کیا، ایران

جنگ اور جنگ بندی کے دوران ایران نے 18 ارب ڈالر کا تیل فروخت کیا، وزارتِ تیل

تہران: ایران کی وزارتِ تیل نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ اور اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے دوران ملک نے مجموعی طور پر 18 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل فروخت کیا، جو رواں مالی سال کے بجٹ میں متوقع تیل کی آمدنی کے 60 فیصد سے زائد کے برابر ہے۔ وزارتِ تیل کا کہنا ہے کہ مشکل حالات، بین الاقوامی دباؤ اور جنگی صورتحال کے باوجود ایران نے اپنی تیل برآمدات جاری رکھیں، جس سے ملکی معیشت کو اہم مالی سہارا ملا۔

وزارتِ تیل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنگ کے دوران ایران نے 11 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کا تیل عالمی منڈی میں فروخت کیا، جبکہ جنگ بندی کے بعد کے عرصے میں مزید 6 ارب 50 کروڑ ڈالر کی تیل برآمدات ریکارڈ کی گئیں۔ یوں مجموعی طور پر صرف چند ماہ کے دوران 18 ارب ڈالر کی آمدن حاصل ہوئی، جسے حکام نے ملکی اقتصادی استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آمدنی ایسے وقت میں حاصل ہوئی جب ملک کو جنگی حالات، پابندیوں اور عالمی سطح پر سفارتی دباؤ کا سامنا تھا۔ اس کے باوجود توانائی کے شعبے نے اپنی کارکردگی برقرار رکھتے ہوئے تیل کی پیداوار، ترسیل اور برآمدات کو متاثر نہیں ہونے دیا۔ وزارتِ تیل کے مطابق اس کامیابی میں ملکی آئل انڈسٹری، بندرگاہی نظام، شپنگ نیٹ ورک اور متعلقہ اداروں کی مسلسل محنت کا اہم کردار رہا۔

رپورٹ کے مطابق حاصل ہونے والی رقم رواں مالی سال کے بجٹ میں تیل سے متوقع مجموعی آمدنی کے 60 فیصد سے زیادہ کے برابر ہے، جس سے حکومت کو مالیاتی خسارہ کم کرنے، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوامی اخراجات پورے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے کیے گئے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگی صورتحال پیدا ہوگئی۔ بعد ازاں اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لڑائی رک گئی، تاہم خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں بھی ایران کی تیل برآمدات کا جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک نے اپنی توانائی کی برآمدات کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل تجارتی راستوں اور خریداروں پر انحصار بڑھایا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں امن و استحکام برقرار رہا تو ایران مستقبل میں اپنی تیل برآمدات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے، جس سے ملکی معیشت کو مزید تقویت ملنے کا امکان ہے۔

More News