خطے میں پائیدار امن کیلئے افغان سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ ضروری، اسحاق ڈار
نیویارک: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ خطے کے امن اور ترقی کی کوششوں کو متاثر کر رہا ہے، پائیدار امن کیلئے افغان سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ ضروری ہے۔
ای سی او کونسل کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے طالبان حکومت سے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر وابستہ گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے اور اسی مقصد کے تحت افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط، دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ تجارت کیلئے سہولتیں فراہم کی گئیں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی توقع ہے کہ طالبان حکومت اس کے جائز سکیورٹی خدشات دور کرے اور ان گروہوں کے خلاف کارروائی کرے جو پاکستان کی خودمختاری اور شہریوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ ہیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور ترقی اسی وقت ممکن ہے جب افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے کا خاتمہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ای سی او خطہ تقریباً 80 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے اور تقریباً 50 کروڑ آبادی پر مشتمل ہے، تاہم عالمی تجارت میں اس کا حصہ تقریباً 2.2 فیصد ہے، جس سے علاقائی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
اسحاق ڈار نے وسطی اور جنوبی ایشیا کو ملانے والے رابطہ کاری منصوبوں، ویزا نظام میں بہتری، افراد و اشیا کی نقل و حرکت آسان بنانے، ڈیجیٹل انضمام اور ٹرانزٹ نظام کی بہتری کو علاقائی تعاون کیلئے اہم قرار دیا۔
انہوں نے نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والے ای سی او کونسل وزرائے خارجہ کے 30ویں اجلاس کی تیاریوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تمام رکن ممالک اور ای سی او سیکریٹریٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے۔







